اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
قطعہ

منتظم عاصیؔ کا قطعہ ’’ابابیلیں اگر پھر لوٹ کر آئی تو کیا ہوگا‘‘ | خرد کی نئی زنجیر اور امید کی واپسی

मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी پیر، 20 اپریل 2026
👁 39 ❤️ 0
منتظم عاصیؔ کا قطعہ ’’ابابیلیں اگر پھر لوٹ کر آئی تو کیا ہوگا‘‘ | خرد کی نئی زنجیر اور امید کی واپسی
ابابیلیں اگر پھر لوٹ کر آئی تو کیا ہوگا
ذرا سا بھی زمیں دامن کو پھیلائی تو کیا ہوگا
پریشاں ہوں یہی میں سوچ کر دن رات اے عاصیؔ
خرد نے پھر نئی زنجیر پہنائی تو کیا ہوگا
📖 सार

منتظم عاصیؔ کا یہ فکر انگیز قطعہ خوف، امید، آزادی، مزاحمت اور انسانی فکر پر عائد پابندیوں کے گہرے احساسات کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ شاعر ’’ابابیلوں‘‘ کے استعارے کے ذریعے ایک ایسی طاقت یا امید کی واپسی کا تصور پیش کرتا ہے جو ظلم، تباہی یا ناانصافی کے مقابل کھڑی ہو سکتی ہے۔ ’’ذرا سا بھی زمیں دامن کو پھیلائی‘‘ میں زمین کو ایک جیتی جاگتی ہستی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو آنے والوں کو جگہ دینے کے لیے اپنا دامن وسیع کرتی ہے۔ لیکن شاعر کے سوال میں خوشی کے ساتھ ایک تشویش بھی پوشیدہ ہے کہ اگر یہ وا

📚 साहित्यिक समीक्षा

قطعے کی سب سے نمایاں خوبی اس کی علامتی فضا ہے۔ ’’ابابیل‘‘، ’’زمین کا دامن‘‘ اور ’’زنجیر‘‘ تینوں تصویری اور معنوی علامتیں ہیں۔ ابابیل کا حوالہ ایک تاری…

قطعے کی سب سے نمایاں خوبی اس کی علامتی فضا ہے۔ ’’ابابیل‘‘، ’’زمین کا دامن‘‘ اور ’’زنجیر‘‘ تینوں تصویری اور معنوی علامتیں ہیں۔ ابابیل کا حوالہ ایک تاریخی اور مذہبی تلمیحی فضا بھی پیدا کرتا ہے، جبکہ زمین کا دامن پھیلانا اسے جاندار اور متحرک کردار بنا دیتا ہے۔ آخری شعر میں ’’خرد‘‘ کا زنجیر پہنانا فکری تصور کو محسوس منظر میں تبدیل کر دیتا ہے۔

🖋️ आलोचनात्मक समीक्षा

شاعر نے دونوں اشعار میں سوالیہ انداز اختیار کرکے فکر کو قاری تک منتقل کیا ہے۔ ’’تو کیا ہوگا‘‘ کی تکرار مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور اضطراب کو مضبوط…

شاعر نے دونوں اشعار میں سوالیہ انداز اختیار کرکے فکر کو قاری تک منتقل کیا ہے۔ ’’تو کیا ہوگا‘‘ کی تکرار مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور اضطراب کو مضبوط کرتی ہے۔ پہلے شعر میں بیرونی تبدیلی کا اندیشہ ہے، جبکہ دوسرے میں اندرونی اور فکری قید کا خوف نمایاں ہوجاتا ہے۔ اس طرح قطعہ صرف کسی واقعے کا ذکر نہیں کرتا بلکہ تبدیلی کے نتائج پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

✦ केंद्रीय विचार

اس قطعے کا مرکزی خیال آزادی کی خواہش، امید کی واپسی اور نئی فکری پابندی کے خوف کے درمیان موجود کشمکش ہے۔ شاعر ’’ابابیلوں‘‘ کو ایک ایسی علامت کے طور پر…

اس قطعے کا مرکزی خیال آزادی کی خواہش، امید کی واپسی اور نئی فکری پابندی کے خوف کے درمیان موجود کشمکش ہے۔ شاعر ’’ابابیلوں‘‘ کو ایک ایسی علامت کے طور پر سامنے لاتا ہے جو کسی بڑے واقعے، مزاحمت، نجات یا تبدیلی کی امید پیدا کرتی ہے۔ ابابیلوں کا واپس آنا ماضی کے کسی واقعے کی یاد بھی دلاتا ہے اور مستقبل میں کسی ممکنہ تبدیلی کا سوال بھی اٹھاتا ہے۔ زمین کا اپنا دامن پھیلانا اس بات کی علامت ہے کہ تبدیلی یا نئی قوت کے لیے حالات دوبارہ جگہ بنا رہے ہیں۔ لیکن شاعر اس امکان سے مطمئن نہیں؛ اس کے ذہن میں یہ سوال مسلسل موجود ہے کہ اگر تبدیلی آئی بھی تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا آزادی واقعی آزادی ہوگی یا انسان کو کسی نئی پابندی میں مبتلا کردیا جائے گا؟ اسی فکر کو آخری شعر میں ’’خرد نے پھر نئی زنجیر پہنائی‘‘ کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔ یہاں خرد کا مفہوم صرف عقل نہیں بلکہ وہ محدود فکری نظام بھی ہوسکتا ہے جو انسان کو اپنی سوچ، سوال اور تخلیقی آزادی سے محروم کردے۔ یوں شاعر امید کے ساتھ احتیاط، تبدیلی کے ساتھ اندیشہ اور عقل کے ساتھ آزادیِ فکر کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

✦ शेर-दर-शेर व्याख्या

مشکل الفاظ
ابابیلیں: ایک خاص قسم کے پرندے؛ قرآنِ مجید کے واقعۂ اصحابِ فیل کی نسبت سے یہ لفظ ایک معروف تلمیح بھی رکھتا ہے۔
لوٹ کر آنا: دوبارہ واپس آن…

مشکل الفاظ

ابابیلیں: ایک خاص قسم کے پرندے؛ قرآنِ مجید کے واقعۂ اصحابِ فیل کی نسبت سے یہ لفظ ایک معروف تلمیح بھی رکھتا ہے۔
لوٹ کر آنا: دوبارہ واپس آنا
زمیں: زمین، دھرتی
دامن: پھیلاؤ، آغوش؛ یہاں زمین کے وسیع پھیلاؤ کا استعارہ
پریشاں: فکرمند، بے چین
خرد: عقل، دانش، فہم
زنجیر: بیڑی، قید کا ذریعہ
پہنانا: کسی چیز کو اپنے اوپر ڈالنا؛ یہاں قید کرنے کے معنوں میں
کیا ہوگا: مستقبل کے انجام کے بارے میں سوال یا اندیشہ

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ اگر ابابیلیں دوبارہ لوٹ کر آ جائیں تو اس کے نتیجے میں کیا ہوگا؟ ابابیل کا لفظ اپنے تاریخی اور مذہبی پس منظر کی وجہ سے غیر معمولی طاقت اور مزاحمت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ شاعر اس لفظ کے ذریعے کسی ایسی قوت یا تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی واپسی معمولی واقعہ نہیں ہوگی بلکہ اس کے دور رس نتائج ہوسکتے ہیں۔
اگلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ اگر زمین نے ذرا سا بھی اپنا دامن پھیلا دیا، یعنی حالات نے کسی نئی قوت یا تبدیلی کے لیے جگہ پیدا کردی، تو پھر کیا صورتِ حال پیدا ہوگی؟ یہاں زمین کو انسانی صفت دے کر اسے ایک ایسے وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو آنے والی تبدیلی کو اپنے دامن میں جگہ دے سکتا ہے۔

مرکزی مفہوم

اس قطعے کا مرکزی مفہوم تبدیلی کی امید کے ساتھ اس کے ممکنہ نتائج کا خوف اور فکری آزادی کے بارے میں تشویش ہے۔ شاعر کسی نئی قوت یا تبدیلی کے امکان کو محسوس کرتا ہے، لیکن اس کے نتائج سے مطمئن نہیں۔ اسے اندیشہ ہے کہ ایک مشکل یا قید سے نکلنے کے بعد انسان کہیں کسی نئی فکری پابندی میں گرفتار نہ ہوجائے۔

مکمل تشریح

پہلے شعر میں ابابیلوں کا ذکر بہت معنی خیز ہے۔ ابابیلیں قرآنِ مجید کے واقعۂ اصحابِ فیل کی وجہ سے اسلامی تہذیبی حافظے میں ایک خاص علامتی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ان کا ’’پھر لوٹ کر آنا‘‘ کسی ایسی قوت کے دوبارہ ظاہر ہونے کا تصور پیدا کرتا ہے جو ظلم، جبر یا تباہی کے مقابل کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔ لیکن شاعر خوشی سے یہ نہیں کہتا کہ ابابیلیں آئیں گی تو سب اچھا ہوجائے گا؛ وہ سوال کرتا ہے: ’’تو کیا ہوگا؟‘‘ اس سوال میں مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور گہری فکری تشویش پوشیدہ ہے۔
دوسرے مصرعے میں ’’زمیں دامن کو پھیلائی‘‘ ایک خوبصورت استعاراتی اظہار ہے۔ زمین کو ایسے دکھایا گیا ہے جیسے وہ اپنا دامن پھیلا کر کسی آنے والی قوت کو جگہ دے رہی ہو۔ اس کا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ اگر حالات میں ذرا سی بھی گنجائش پیدا ہوئی، اگر تبدیلی کے لیے ماحول سازگار ہوا، تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ شاعر تبدیلی کے امکان کو دیکھ رہا ہے، مگر اس کے انجام کے بارے میں سوال اٹھا رہا ہے۔
دوسرے شعر میں شاعر اپنی بے چینی کی اصل وجہ بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے عاصیؔ! میں دن رات اسی سوچ میں پریشان ہوں کہ اگر خرد نے پھر نئی زنجیر پہنائی تو کیا ہوگا؟ یہاں ’’خرد‘‘ بظاہر عقل اور دانش کے معنی رکھتی ہے، لیکن شاعر اسے صرف مثبت عقل کے طور پر استعمال نہیں کرتا۔ ممکن ہے یہاں ایسی عقل، نظریے یا فکری نظام کی طرف اشارہ ہو جو انسان کو آزاد کرنے کے بجائے اسے نئے اصولوں، پابندیوں اور نظریاتی قید میں جکڑ دے۔
’’نئی زنجیر‘‘ نہایت اہم استعارہ ہے۔ زنجیر قید اور غلامی کی علامت ہے، جبکہ نئی زنجیر اس اندیشے کو ظاہر کرتی ہے کہ پرانی پابندی ختم ہونے کے بعد کوئی نئی پابندی پیدا ہوسکتی ہے۔ یعنی انسان ظاہری طور پر آزاد ہوجائے، مگر اس کی سوچ، سوال کرنے کی صلاحیت اور فکری آزادی کسی نئے نظام کے زیرِ اثر قید ہوجائے۔
اس طرح شاعر کا سوال صرف یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ تبدیلی کے بعد انسان آزاد بھی رہے گا یا نہیں۔ یہی نکتہ اس مختصر قطعے کو ایک گہری فکری معنویت عطا کرتا ہے۔

مجموعی تاثر

یہ قطعہ مختصر ہونے کے باوجود تلمیح، علامت اور فکری سوالات سے بھرپور ہے۔ ’’ابابیلیں‘‘ امید اور مزاحمت کا احساس پیدا کرتی ہیں، ’’زمین کا دامن‘‘ نئی تبدیلی کے لیے گنجائش کی علامت بنتا ہے اور ’’خرد کی نئی زنجیر‘‘ فکری غلامی کے خوف کو نمایاں کرتی ہے۔ ’’تو کیا ہوگا‘‘ کی تکرار شاعر کی بے یقینی اور اضطراب کو مزید گہرا کرتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ قطعہ قاری کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آزادی صرف ظاہری قید سے نجات کا نام نہیں؛ حقیقی آزادی کے لیے آزاد فکر، آزاد شعور اور سوال کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

✦ कलात्मक ख़ूबियाँ

تکرارِ لفظی، استفہامیہ انداز، علامت نگاری، تلمیح، تشخیص اور تضاد اس قطعے کے اہم فنی محاسن ہیں۔ ’’ابابیلیں‘‘ اور ’’خرد‘‘ کے درمیان معنوی فاصلہ شعر کو و…

تکرارِ لفظی، استفہامیہ انداز، علامت نگاری، تلمیح، تشخیص اور تضاد اس قطعے کے اہم فنی محاسن ہیں۔ ’’ابابیلیں‘‘ اور ’’خرد‘‘ کے درمیان معنوی فاصلہ شعر کو وسیع فکری دائرہ دیتا ہے۔ ’’زنجیر پہنائی‘‘ ایک مؤثر استعاراتی ترکیب ہے، جبکہ ’’تو کیا ہوگا‘‘ کی تکرار اضطراب اور تجسس پیدا کرتی ہے۔

✦ प्रतीकवाद

ابابیلیں امید، مزاحمت، حفاظت اور کسی بڑی تبدیلی کی علامت بن سکتی ہیں۔ زمین اجتماعی زندگی اور معاشرے کی علامت ہے۔ دامن پھیلانا کسی نئی قوت یا تبدیلی کے…

ابابیلیں امید، مزاحمت، حفاظت اور کسی بڑی تبدیلی کی علامت بن سکتی ہیں۔ زمین اجتماعی زندگی اور معاشرے کی علامت ہے۔ دامن پھیلانا کسی نئی قوت یا تبدیلی کے لیے جگہ پیدا ہونے کا استعارہ ہے۔ خرد عقل، شعور اور فکری نظام کی علامت ہے، جبکہ زنجیر پابندی، غلامی اور آزادیِ فکر کی رکاوٹ کی علامت ہے۔

✦ रूपक और उपमाएँ

’’زمین کا دامن پھیلانا‘‘ تشخیص اور استعاراتی اظہار کی عمدہ مثال ہے، کیونکہ زمین کو انسانی خصوصیت دی گئی ہے۔ ’’خرد نے زنجیر پہنائی‘‘ میں عقل یا فکری نظ…

’’زمین کا دامن پھیلانا‘‘ تشخیص اور استعاراتی اظہار کی عمدہ مثال ہے، کیونکہ زمین کو انسانی خصوصیت دی گئی ہے۔ ’’خرد نے زنجیر پہنائی‘‘ میں عقل یا فکری نظام کو ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کو قید کر سکتا ہے۔ ’’ابابیلوں کی واپسی‘‘ بھی ایک وسیع علامتی استعارہ ہے جو امید اور مزاحمت کے ممکنہ لوٹ آنے کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔

✦ शायर के वैचारिक आयाम

منتظم عاصیؔ کے فکری زاویے میں تبدیلی محض خوشی کا سبب نہیں بلکہ غور و فکر کا تقاضا بھی ہے۔ شاعر سوال اٹھاتا ہے کہ اگر پرانی قوتیں ختم ہوں اور نئی قوتیں…

منتظم عاصیؔ کے فکری زاویے میں تبدیلی محض خوشی کا سبب نہیں بلکہ غور و فکر کا تقاضا بھی ہے۔ شاعر سوال اٹھاتا ہے کہ اگر پرانی قوتیں ختم ہوں اور نئی قوتیں آئیں تو کیا انسان واقعی آزاد ہوجائے گا؟ اس کے نزدیک ظاہری آزادی کے ساتھ فکری آزادی بھی ضروری ہے۔ ایسی عقل جو سوال کرنے کے بجائے نئی پابندیاں پیدا کرے، انسان کے لیے ایک نئی زنجیر بن سکتی ہے۔

✦ आज के दौर में ग़ज़ल की प्रासंगिकता

موجودہ دور میں انسان سیاسی، سماجی، نظریاتی اور ڈیجیٹل نظاموں کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔ معلومات کی کثرت کے باوجود فکری آزادی ہمیشہ یقینی نہیں۔ اس تن…

موجودہ دور میں انسان سیاسی، سماجی، نظریاتی اور ڈیجیٹل نظاموں کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔ معلومات کی کثرت کے باوجود فکری آزادی ہمیشہ یقینی نہیں۔ اس تناظر میں ’’خرد کی نئی زنجیر‘‘ کا استعارہ خاص معنویت رکھتا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ترقی اور نئی فکر کے نام پر کہیں انسان اپنی آزاد سوچ سے محروم تو نہیں ہو رہا۔

← पिछला अगला →

✍️ मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी — संक्षिप्त परिचय

मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी
📍 मालेगाँव, महाराष्ट्र, भारत

### मुंतज़िम आसी — एक तफ़सीली अदबी तआरुफ़
मुंतज़िम आसी उर्दू अदब की दुनिया में एक ऐसे शख़्स के तौर पर सामने आते हैं जिनकी अदबी ज़िंदगी में शायरी, रूहानियत, मुतालआ, इल्म-ए-अरूज़ और अदबी ख़िदमत एक-दूसरे से जुड़ी हुई नज़र आती हैं। उनकी शख़्सियत का सबसे अहम पहलू यह है कि उन्होंने शायरी को महज़ शौक़ नहीं बल्कि एक लगातार जारी रहने वाले जुनून और ज़िम्मेदारी के तौर पर अपनाया।
उनका अदबी सफ़र किसी एक दिन …

और पढ़ें ←
قطعہ क्या है?

قطعہ اردو شاعری کی ایک مختصر صنف ہے جس میں چار یا زیادہ مصرعے ایک موضوع پر ہوتے ہیں۔

मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी की और रचनाएँ
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन