اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

عیاں ہے ہر طرف عالم میں حسنِ بے حجاب اس کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ اور ادبی جائزہ

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 41 ❤️ 0
عیاں ہے ہر طرف عالمِ میں حسنِ بے حجاب اس کا
بغیر از دیدۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اُس کا
ہوا ہے مجھ پہ شمع بزمِ یک رنگی سوں یوں روشن
کہ ہر ذرے اُپر تاباں ہے دائم آفتاب اُس کا
کرے ہے عشاق کو جیوں صورت دیوار حسرت سوں
اگر پردے سوں وا ہووے جمالِ بے حجاب اس کا
سجن نے یک نظر دیکھا نگاہِ مست سوں جس کو
خراباتِ دو عالم میں سدا ہے وہ خراب اُس کا
مرا دل پاک ہے از بس، ولی زنگِ کدورت سوں
ہوا جیوں جوہرِ آئینہ مخفی پیچ و تاب اُس کا
📖 Summary

ولی دکنی کی اس غزل میں حسنِ محبوب کو ایک ہمہ گیر اور کائناتی حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ہر طرف بے حجاب جلوہ گر ہے۔ شاعر کے نزدیک کائنات کا ہر ذرہ اسی حسن کی تجلی سے روشن ہے اور یہ روشنی کسی ایک مقام تک محدود نہیں بلکہ ہر سمت پھیلی ہوئی ہے۔
غزل میں عاشق کی حالت کو آئینے کی طرح صاف اور شفاف دل کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جس میں محبوب کے حسن کے اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں۔ شاعر کے خیال میں جب دل کدورت اور زنگ سے پاک ہو جاتا ہے تو وہ محبوب کے جمال کو پوری طرح منعکس کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔
محبوب کی ا

← Previous Next →

✍️ ولی دکنی — Short Introduction

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ولی دکنی
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online