اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

روح بخشی ہے کام تجھ لب کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ، تشریح اور ادبی جائزہ

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 57 ❤️ 0
روح بخشی ہے کام تجھ لب کا
دمِ عیسیٰ ہے نام تجھ لب کا
حُسن کے خضر نے کیا لبریز
آبِ حیواں سوں جام تجھ لب کا
منطق و حکمت و معانی پر
مشتمل ہے کلام تجھ لب کا
رگِ یاقوت کے قلم سوں لکھیں
خط پرستاں پیام تجھ لب کا
سبزہ و برگ و لالہ رکھتے ہیں
شوق، دل میں دوام تجھ لب کا
غرق شکر ہوئے ہیں کام و زباں
جب لیا ہوں میں نام تجھ لب کا
ہے ولیؔ کی زباں کوں لذت بخش
ذکر ہر صبح و شام تجھ لب کا
📖 Summary

ولی دکنی کی اس غزل میں محبوب کے لبوں کو حسن و لطافت کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کے لب صرف خوبصورتی کی علامت نہیں بلکہ زندگی، تازگی اور روحانی سرور عطا کرنے والی قوت رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ انہیں حضرت عیسیٰؑ کے دم سے تشبیہ دیتا ہے، جو مردہ دلوں کو حیات بخش سکتا ہے۔ غزل میں آبِ حیات، خضر، یاقوت اور شکر جیسی علامتوں کے ذریعے محبوب کے لبوں کی تاثیر اور دلکشی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ شاعر کے مطابق محبوب کی گفتگو میں حکمت، دانائی اور معنویت پوشیدہ ہے، جبکہ اس کے لبوں کا ذکر دل و زبان کے

← Previous Next →

✍️ ولی دکنی — Short Introduction

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ولی دکنی
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online