نظم
عشرتِ امروز | علامہ اقبال | بانگِ درا
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 30
❤️ 0
نہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پيام عيش و سرور
نہ کھينچ نقشہ کيفيت شراب طہور
فراق حور ميں ہو غم سے ہمکنار نہ تو
پري کو شيشہ الفاظ ميں اتار نہ تو
مجھے فريفتہ ساقي جميل نہ کر
بيان حور نہ کر ، ذکر سلسبيل نہ کر
مقام امن ہے جنت ، مجھے کلام نہيں
شباب کے ليے موزوں ترا پيام نہيں
شباب ، آہ! کہاں تک اميدوار رہے
وہ عيش ، عيش نہيں ، جس کا انتظار رہے
وہ حسن کيا جو محتاج چشم بينا ہو
نمود کے ليے منت پذير فردا ہو
عجيب چيز ہے احساس زندگاني کا
عقيدہ 'عشرت امروز' ہے جواني کا
📖 Summary
اقبال اس نظم میں زندگی کے موجودہ لمحے کو غنیمت جاننے کا درس دیتے ہیں۔
✍️ محمد اقبال — Short Introduction
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
Read more ←
نظم What is it?
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
More by محمد اقبال
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سنا دی...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک وطنیت صدا...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...




No comments yet — be the first!