اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
قطعہ

زخموں سے چور یادوں کا سفر — منتظم عاصیؔ

Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari پیر، 20 اپریل 2026
👁 39 ❤️ 0
زخموں سے چور یادوں کا سفر — منتظم عاصیؔ
زخموں سے چور یادوں کے عالم لئے ہوئے
صحرا میں پھر رہا ہوں میں مرہم لئے ہوئے
خوشیاں خریدنے کی بھی جرات نہیں ہوئی
واپس میں آیا ہاٹ سے پھر غم لئے ہوئے
دنیائے بے ثبات میں چودہ طبق کا علم
آئے تھے اپنے ساتھ میں آدم لئے ہوئے
شہرِ انا میں روز ملیں گے نئے نئے
ہم سے فقیر گیسوئے برہم لئے ہوئے
📖 Summary

منتظم عاصیؔ کی اس غزل میں انسانی زندگی کے دکھ، یادوں کے زخم، خوشیوں سے محرومی، دنیا کی بے ثباتی اور انسانی انا کے تضادات کو شعری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر ایک ایسے شخص کی تصویر بناتا ہے جو ماضی کی تلخ یادوں کا بوجھ اٹھائے صحرا میں بھٹک رہا ہے، حالاں کہ اس کے ہاتھ میں مرہم بھی موجود ہے۔ یہ کیفیت انسان کی اس داخلی کشمکش کی علامت ہے جس میں وہ اپنے زخموں کا علاج چاہتا بھی ہے اور ان یادوں سے مکمل طور پر آزاد بھی نہیں ہو پاتا جو اسے بار بار تکلیف پہنچاتی ہیں۔
دوسرے شعر میں خوشیوں کی خریداری کا ا

📚 Literary Review

اس غزل کی نمایاں خصوصیت علامتی اظہار اور تصویری زبان ہے۔ شاعر نے زخم، یاد، صحرا، مرہم، ہاٹ، غم، دنیا کی بے ثباتی اور شہرِ انا جیسی تصویروں کے ذریعے اپ…

اس غزل کی نمایاں خصوصیت علامتی اظہار اور تصویری زبان ہے۔ شاعر نے زخم، یاد، صحرا، مرہم، ہاٹ، غم، دنیا کی بے ثباتی اور شہرِ انا جیسی تصویروں کے ذریعے اپنے تجربات کو شعری صورت دی ہے۔ یہ الفاظ اپنے لغوی مفہوم سے آگے بڑھ کر داخلی کیفیات اور انسانی رویّوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
پہلے شعر میں زخموں اور مرہم کا تضاد ایک مؤثر شعری منظر پیدا کرتا ہے۔ دوسرے شعر میں خوشیوں کی خریداری اور غم لے کر واپسی کی تصویر زندگی کے تلخ تجربے کو روزمرہ صورتِ حال سے جوڑ دیتی ہے۔ تیسرے شعر میں فکری اور فلسفیانہ انداز نمایاں ہے، جب کہ چوتھے شعر میں انا اور برہم گیسو کی علامتیں غزل کو عشق اور انسانی تعلقات کی طرف لے جاتی ہیں۔
غزل کی زبان میں روایتی شعری علامتوں کے ساتھ ذاتی تجربے کی جھلک بھی موجود ہے۔ بعض مصرعوں کے مفہوم میں معنوی گنجائش پائی جاتی ہے، جو قاری کو مختلف زاویوں سے غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔

🖋️ Critical Review

تنقیدی اعتبار سے اس غزل کی قوت اس کی علامتی فضا اور جذباتی تسلسل میں ہے۔ پہلے دو اشعار میں درد، محرومی اور خوشی کے حصول میں ناکامی کا مضمون نسبتاً واض…

تنقیدی اعتبار سے اس غزل کی قوت اس کی علامتی فضا اور جذباتی تسلسل میں ہے۔ پہلے دو اشعار میں درد، محرومی اور خوشی کے حصول میں ناکامی کا مضمون نسبتاً واضح ہے۔ تیسرے شعر میں دنیا کی بے ثباتی اور علم کے ذکر سے غزل کا دائرہ ذاتی کرب سے بڑھ کر فکری سطح تک پہنچ جاتا ہے۔ آخری شعر میں شہرِ انا اور برہم گیسو کا امتزاج انسانی خودداری اور عشق کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق کا امکان پیدا کرتا ہے۔
تاہم، تیسرے شعر میں “چودہ طبق کا علم” اور “آدم” کے باہمی تعلق کی تعبیر کے لیے مزید سیاق درکار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح آخری شعر میں “ہم سے فقیر” کی ترکیب کو عشق کے درویشانہ مزاج، خودداری یا کسی دوسرے مفہوم میں پڑھا جا سکتا ہے۔ ان مقامات پر قطعی مفہوم قائم کرنے کے بجائے متعدد ممکنہ معنوی جہات کو تسلیم کرنا زیادہ مناسب ہے۔
مجموعی طور پر غزل میں خیال کی وسعت اور علامتی اظہار موجود ہے، البتہ اشعار کے باہمی فکری ربط اور بعض تراکیب کی وضاحت سے اس کی معنوی تاثیر مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔

✦ Central Idea

اس غزل کا مرکزی خیال انسانی زندگی کی داخلی شکستگی، ماضی کی تلخ یادوں اور خوشی کی تلاش میں بار بار محرومی سے دوچار ہونے کے تجربے سے وابستہ ہے۔ شاعر اپن…

اس غزل کا مرکزی خیال انسانی زندگی کی داخلی شکستگی، ماضی کی تلخ یادوں اور خوشی کی تلاش میں بار بار محرومی سے دوچار ہونے کے تجربے سے وابستہ ہے۔ شاعر اپنے وجود کو ایسے مسافر کے طور پر پیش کرتا ہے جو زخموں کا بوجھ اٹھائے صحرا میں بھٹک رہا ہے۔ اس کے پاس مرہم تو ہے، لیکن سکون اور شفا کی منزل ابھی دور ہے۔ یہ کیفیت اس انسانی تجربے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں علاج کے امکانات موجود ہونے کے باوجود دل ماضی کے دکھوں سے آزاد نہیں ہو پاتا۔
غزل میں دنیا کی بے ثباتی کا احساس بھی نمایاں ہے۔ شاعر انسانی علم، زندگی کے سفر اور دنیاوی تجربات کو ایک ایسے تناظر میں دیکھتا ہے جہاں ہر شے عارضی ہے اور ہر کامیابی کے ساتھ محرومی کا امکان موجود رہتا ہے۔ آخری شعر میں شہرِ انا اور برہم گیسو کی تصویریں خودداری، عشق اور انسانی تعلقات کی پیچیدگی کو سامنے لاتی ہیں۔
یوں یہ غزل محض غم کی ترجمانی نہیں کرتی بلکہ انسان کے باطن، اس کی خواہشات، اس کے شعور اور زندگی کے تضادات پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔

✦ Verse-by-verse Explanation

زخموں سے چور یادوں کے عالم لئے ہوئے
صحرا میں پھر رہا ہوں میں مرہم لئے ہوئے
مشکل الفاظ کے معنی
زخموں سے چور: شدید طور پر زخمی یا تکلیف میں مبتلا۔
…

زخموں سے چور یادوں کے عالم لئے ہوئے
صحرا میں پھر رہا ہوں میں مرہم لئے ہوئے

مشکل الفاظ کے معنی

زخموں سے چور: شدید طور پر زخمی یا تکلیف میں مبتلا۔
عالم: کیفیت، حالت یا فضا۔
صحرا: وسیع ویران علاقہ؛ علامتی طور پر تنہائی اور بے سمتی۔
مرہم: زخموں کو آرام پہنچانے والی دوا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک ایسے انسان کی تصویر پیش کرتا ہے جو یادوں کے زخموں سے نڈھال ہے۔ اس کی یادیں محض ماضی کی یاد دہانیاں نہیں بلکہ ایسی کیفیات ہیں جو اس کے دل کو بار بار تکلیف پہنچاتی ہیں۔ وہ اپنے ساتھ مرہم لیے صحرا میں بھٹک رہا ہے۔ صحرا اس کی تنہائی، بے سکونی اور منزل کی تلاش کی علامت بن جاتا ہے۔
مرہم کا موجود ہونا امید کا پہلو پیدا کرتا ہے۔ شاعر گویا شفا کی خواہش رکھتا ہے، لیکن اس کا صحرا میں بھٹکنا بتاتا ہے کہ سکون کی منزل ابھی حاصل نہیں ہوئی۔ اس شعر میں ایک داخلی تضاد بھی ہے: زخم بھی موجود ہیں، ان کے علاج کی کوشش بھی ہے، مگر مکمل راحت ابھی میسر نہیں۔

مرکزی مفہوم

ماضی کی تلخ یادیں انسان کو اندر سے زخمی کر سکتی ہیں، اور ان سے نجات کی کوشش کے باوجود سکون تک پہنچنے کا سفر طویل ہو سکتا ہے۔

خوشیاں خریدنے کی بھی جرات نہیں ہوئی
واپس میں آیا ہاٹ سے پھر غم لئے ہوئے

مشکل الفاظ کے معنی

جرات: ہمت، حوصلہ۔
ہاٹ: بازار یا منڈی۔
غم لئے ہوئے: دکھ اور محرومی کے ساتھ۔

تشریح

اس شعر میں شاعر خوشیوں کو خریدی جانے والی شے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ ایک علامتی انداز ہے جس میں بازار زندگی کے تجربات اور خواہشات کی دنیا بن جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس میں خوشیاں خریدنے کی جرات بھی پیدا نہ ہوئی، اور جب وہ بازار سے واپس آیا تو اس کے پاس غم تھا۔
یہ کیفیت مختلف انداز سے سمجھی جا سکتی ہے۔ ممکن ہے شاعر خوشی حاصل کرنے کی کوشش میں ہمت نہ کر سکا ہو، یا زندگی کے تجربات نے اسے اس قدر مایوس کر دیا ہو کہ وہ خوشی کے امکان سے بھی خوف محسوس کرنے لگا ہو۔ دوسرے مصرعے میں غم لے کر واپسی زندگی کی توقعات اور حاصل ہونے والے نتائج کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتی ہے۔
شعر کی تاثیر اس تضاد میں ہے کہ انسان خوشی چاہتا ہے، مگر اس کا تجربہ اسے دوبارہ دکھ کی طرف لے آتا ہے۔

مرکزی مفہوم

کبھی انسان کی محرومیاں اس کے حوصلے کو کم کر دیتی ہیں، اور وہ خوشی کی خواہش رکھنے کے باوجود اسے حاصل کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔

دنیائے بے ثبات میں چودہ طبق کا علم
آئے تھے اپنے ساتھ میں آدم لئے ہوئے

مشکل الفاظ کے معنی

دنیائے بے ثبات: ایسی دنیا جو مستقل نہیں، جہاں ہر چیز عارضی ہے۔
چودہ طبق: روایتی تصور میں کائنات کے طبقات یا جہات؛ شاعری میں وسعت اور کائناتی علم کے مفہوم میں بھی آ سکتا ہے۔
علم: جانکاری، معرفت یا شعور۔
آدم: انسان؛ یہاں انسانِ اوّل یا انسانی وجود کا عمومی مفہوم بھی ممکن ہے۔

تشریح

یہ شعر غزل کے دیگر اشعار کے مقابلے میں زیادہ فلسفیانہ اور معنوی طور پر پیچیدہ ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کرتا ہے، یعنی ایسی دنیا جہاں کوئی حالت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ اسی تناظر میں “چودہ طبق کا علم” کائنات کے وسیع علم یا انسانی شعور کی وسعت کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔
دوسرے مصرعے میں “آدم” کا ذکر انسانی وجود اور اس کے ساتھ وابستہ علم و شعور کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ شعر کا مجموعی مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ انسان دنیا میں علم اور شعور کے دعووں کے ساتھ آتا ہے، مگر جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے وہ خود ناپائیدار ہے۔ اس طرح علم کی وسعت اور دنیا کی عارضی حیثیت کے درمیان ایک فکری تناؤ پیدا ہوتا ہے۔
چونکہ اس شعر کی ترکیب قدرے مبہم ہے، اس لیے اس کے قطعی مفہوم کے لیے شاعر کے مزید کلام یا اصل سیاق کی مدد مفید ہو سکتی ہے۔

مرکزی مفہوم

دنیا کی ناپائیداری کے سامنے انسانی علم اور شعور کی حیثیت پر غور کرنا اس شعر کی ایک ممکنہ فکری جہت ہے۔

شہرِ انا میں روز ملیں گے نئے نئے
ہم سے فقیر گیسوئے برہم لئے ہوئے

مشکل الفاظ کے معنی

شہرِ انا: خودی، خودداری یا خود پسندی کی علامتی دنیا۔
فقیر: محتاج، درویش یا ایسا شخص جو دنیاوی دعووں سے بے نیاز ہو؛ شعری سیاق میں عاشق کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
گیسوئے برہم: بکھرے یا الجھے ہوئے بال؛ روایتی شاعری میں محبوب کے حسن اور اس کی دل کشی کی علامت۔

تشریح

اس شعر میں شاعر “شہرِ انا” کی ایک علامتی فضا قائم کرتا ہے۔ یہ ایسا ماحول ہو سکتا ہے جہاں ہر شخص اپنی ذات، اپنی برتری یا اپنی خودداری کے حصار میں رہتا ہے۔ اس فضا میں شاعر اپنے جیسے فقیروں کا ذکر کرتا ہے جو “گیسوئے برہم” لیے ہوئے ہیں۔
روایتی عشقیہ شاعری میں محبوب کے بکھرے ہوئے گیسو حسن، کشش اور عاشق کی بے قراری کی علامت ہوتے ہیں۔ اس لیے یہاں “ہم سے فقیر” کو ایسے عاشقوں کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے جو اپنی ظاہری حیثیت سے بے نیاز ہو کر حسن و عشق کی دنیا میں سرگرداں ہیں۔ ایک دوسری ممکنہ تعبیر یہ ہے کہ شہرِ انا میں ایسے لوگ ملتے رہیں گے جو خودداری اور عشق کی کشمکش اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں۔
شعر میں عشق کی روایت اور انسانی انا کا تصور ایک ساتھ آتے ہیں، جس سے کئی معنوی امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

مرکزی مفہوم

انسانی انا کی دنیا میں بھی عشق، بے نیازی اور داخلی کشمکش رکھنے والے لوگ ملتے ہیں؛ ظاہری خودداری کے باوجود انسان جذبات اور خواہشات سے آزاد نہیں ہو پاتا۔

مجموعی تاثر

منتظم عاصیؔ کی یہ غزل یادوں کے زخموں، خوشیوں سے محرومی، دنیا کی بے ثباتی اور انسانی انا کی پیچیدگی کو علامتی زبان میں پیش کرتی ہے۔ پہلے دو اشعار میں ذاتی کرب اور زندگی کے تلخ تجربات نمایاں ہیں، جب کہ تیسرے اور چوتھے اشعار میں فکری اور علامتی پہلو زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔
غزل کا سب سے مؤثر پہلو یہ ہے کہ شاعر نے داخلی کیفیات کو صحرا، مرہم، بازار اور شہرِ انا جیسی تصویروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ بعض تراکیب متعدد معنوی تعبیرات کی گنجائش رکھتی ہیں، جس سے قاری کو اپنے فہم کے مطابق ان پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کلام درد، خود شناسی اور زندگی کی ناپائیداری کے احساس کو شعری اظہار عطا کرتا ہے۔

✦ Artistic Merits

علامتی اظہار: زخم، مرہم، صحرا اور شہرِ انا کے ذریعے داخلی اور خارجی کیفیات کو پیش کیا گیا ہے۔
تضاد: خوشی اور غم، زخم اور مرہم، فقیری اور انا کے تصورا…

علامتی اظہار: زخم، مرہم، صحرا اور شہرِ انا کے ذریعے داخلی اور خارجی کیفیات کو پیش کیا گیا ہے۔
تضاد: خوشی اور غم، زخم اور مرہم، فقیری اور انا کے تصورات شعری تناؤ پیدا کرتے ہیں۔
تصویریت: صحرا میں بھٹکتے شخص اور بازار سے غم لے کر لوٹنے والے انسان کی تصویریں قاری کے ذہن میں منظر بناتی ہیں۔
استعاراتی زبان: روزمرہ الفاظ کو وسیع جذباتی اور فکری معنی دیے گئے ہیں۔
فکری تنوع: ذاتی دکھ سے لے کر دنیا کی ناپائیداری اور انسانی تعلقات تک مختلف موضوعات کو جگہ دی گئی ہے۔
داخلی کیفیت: اشعار میں محرومی، بے سکونی اور خود شناسی کی فضا نمایاں ہے۔

✦ Symbolism

اس غزل میں کئی علامتیں معنوی اہمیت رکھتی ہیں:
- زخم: ماضی کے دکھ، جذباتی صدمے اور تلخ تجربات۔
- یادیں: وہ ماضی جو انسان کے حال پر اثر انداز رہتا ہے۔…

اس غزل میں کئی علامتیں معنوی اہمیت رکھتی ہیں:
- زخم: ماضی کے دکھ، جذباتی صدمے اور تلخ تجربات۔
- یادیں: وہ ماضی جو انسان کے حال پر اثر انداز رہتا ہے۔
- صحرا: تنہائی، بے سمتی، روحانی پیاس اور طویل تلاش۔
- مرہم: شفا، تسلی، امید اور زخموں سے نجات کی خواہش۔
- ہاٹ: زندگی کا بازار، جہاں انسان اپنی خواہشات اور تجربات کے درمیان انتخاب کرتا ہے۔
- غم: محرومی اور تلخ تجربات کا استعارہ۔
- دنیائے بے ثبات: زندگی کی عارضی حیثیت اور دنیاوی کامیابیوں کی ناپائیداری۔
- شہرِ انا: خود پسندی، خودداری اور انسانی تعلقات میں انا کے غلبے کی علامت۔
- برہم گیسو: حسن، کشش، عشق کی پیچیدگی اور بے ترتیبی کی شعری تصویر۔

✦ Metaphors & Similes

غزل میں براہِ راست تشبیہات کے مقابلے میں استعارات اور علامتی ترکیبوں کا استعمال زیادہ نمایاں ہے۔

“زخموں سے چور یادیں” میں یادوں کو جسمانی زخموں کی …

غزل میں براہِ راست تشبیہات کے مقابلے میں استعارات اور علامتی ترکیبوں کا استعمال زیادہ نمایاں ہے۔

“زخموں سے چور یادیں” میں یادوں کو جسمانی زخموں کی طرح مؤثر اور تکلیف دہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس ترکیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی کے تجربات انسان کے باطن کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
“صحرا میں پھر رہا ہوں میں مرہم لئے ہوئے” میں صحرا تنہائی اور بے سکونی کی تصویر ہے، جب کہ مرہم شفا کی خواہش اور امید کی علامت ہے۔ دونوں کے اجتماع سے ایک ایسا تضاد پیدا ہوتا ہے جس میں علاج موجود ہونے کے باوجود منزل کا حصول دشوار ہے۔
“خوشیاں خریدنے” کی ترکیب جذبات کو بازار کی شے بنا دیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں “غم لے کر واپس آنا” زندگی کی اس تلخی کو ظاہر کرتا ہے جس میں انسان اپنی خواہش کے برعکس نتیجے سے دوچار ہوتا ہے۔
“شہرِ انا” ایک استعاراتی ترکیب ہے، جو ایسے ماحول کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں خودداری، خود پسندی یا ذاتی برتری انسانی تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ “گیسوئے برہم” روایتی عشقیہ شاعری کی ایک دل کش علامت ہے، جس میں حسن کی کشش کے ساتھ پیچیدگی اور بے ترتیبی کا تصور بھی شامل ہو سکتا ہے۔

✦ Poet's Intellectual Dimensions

اس غزل میں منتظم عاصیؔ کا شعری لہجہ انسانی باطن کے دکھوں اور زندگی کے تلخ تجربات کی طرف متوجہ دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کی توجہ صرف ظاہری واقعات پر نہیں بل…

اس غزل میں منتظم عاصیؔ کا شعری لہجہ انسانی باطن کے دکھوں اور زندگی کے تلخ تجربات کی طرف متوجہ دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کی توجہ صرف ظاہری واقعات پر نہیں بلکہ ان کے نفسیاتی اثرات پر بھی ہے۔ یادیں، زخم اور مرہم ایسے تصورات ہیں جن کے ذریعے انسان کی داخلی کشمکش سامنے آتی ہے۔
دوسرے شعر میں خوشی کی تلاش اور غم کے ساتھ واپسی کا مضمون زندگی سے وابستہ توقعات اور حقیقی تجربات کے درمیان فاصلے کو ظاہر کرتا ہے۔ تیسرے شعر میں دنیا کی بے ثباتی کا تصور شاعر کے فکری دائرے کو وسعت دیتا ہے، جبکہ آخری شعر میں انا اور عشق کے حوالے سے انسانی تعلقات کی پیچیدگی سامنے آتی ہے۔
ان اشعار کی بنیاد پر شاعر کے یہاں دکھ کو محض ذاتی شکایت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی تجربے اور خود شناسی کے ایک وسیلے کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔

✦ Relevance of the Ghazal Today

آج کے دور میں یہ غزل اس لیے معنویت رکھتی ہے کہ انسان ظاہری مصروفیات اور سماجی رابطوں کے باوجود ذہنی تنہائی، ماضی کی تلخیوں اور نامکمل خواہشات سے دوچار…

آج کے دور میں یہ غزل اس لیے معنویت رکھتی ہے کہ انسان ظاہری مصروفیات اور سماجی رابطوں کے باوجود ذہنی تنہائی، ماضی کی تلخیوں اور نامکمل خواہشات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ یادوں کے زخم اور مرہم کی تلاش ایسے تجربات ہیں جو مختلف زمانوں اور معاشروں میں انسانی زندگی کا حصہ رہے ہیں۔
خوشیاں خریدنے کے باوجود غم لے کر لوٹنے کی تصویر آج کے صارفیت پسند معاشرے میں بھی ایک علامتی معنی رکھتی ہے، جہاں مادی آسائشیں ہمیشہ داخلی سکون فراہم نہیں کرتیں۔ اسی طرح شہرِ انا کی علامت ان تعلقات کی طرف توجہ دلاتی ہے جن میں ضد، خود پسندی اور اپنی بات منوانے کی خواہش محبت اور خلوص کو متاثر کرتی ہے۔
یہ غزل قاری کو اپنے تجربات، خواہشات اور تعلقات پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اس کا پیغام یہ نہیں کہ غم سے مکمل نجات ہمیشہ ممکن ہے، بلکہ یہ کہ انسان اپنے باطن کو سمجھ کر اپنے تجربات کے معنی دریافت کر سکتا ہے۔

← Previous Next →

✍️ Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari — Short Introduction

Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari
📍 Malegaon, Maharashtra, india

## Shakhsiyat, Adabi Safar aur Shayari Khidmaat
Muntazim Aasi ka shumaar un ahl-e-qalam mein hota hai jinhon ne sher-o-adab ki duniya mein kisi baqaida adabi idare ya rasmi tarbiyati silsile ke sahare ke bajaye apne shauq, mutalea, musalsal mashq, asatiza ki rehnumai aur ghair mamooli junoon-e-sukhan ke zariye apna raasta banaya. Unka adabi safar mahaz shayari tak mehdood nahin balki yeh ek aise …

Read more ←
قطعہ What is it?

قطعہ اردو شاعری کی ایک مختصر صنف ہے جس میں چار یا زیادہ مصرعے ایک موضوع پر ہوتے ہیں۔

More by Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online