اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
نظم

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری — علامہ اقبالؒ کی مشہور نظم

محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 38 ❤️ 0
لب پہ آتي ہے دعا بن کے تمنا ميري
زندگي شمع کي صورت ہو خدايا ميري
دور دنيا کا مرے دم سے اندھيرا ہو جائے
ہر جگہ ميرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے يونہي ميرے وطن کي زينت
جس طرح پھول سے ہوتي ہے چمن کي زينت
زندگي ہو مري پروانے کي صورت يا رب
علم کي شمع سے ہو مجھ کو محبت يا رب
ہو مرا کام غريبوں کي حمايت کرنا
دردمندوں سے ضعيفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائي سے بچانا مجھ کو
نيک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
📖 सार

علامہ محمد اقبالؒ کی یہ مشہور دعا بچوں کے دلوں میں نیکی، علم دوستی، خدمتِ خلق، وطن سے محبت اور اچھے کردار کی آرزو پیدا کرتی ہے۔ شاعر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اس کی زندگی شمع کی طرح دوسروں کے لیے روشنی کا ذریعہ بنے، اس کے وجود سے دنیا کی تاریکیاں دور ہوں اور اس کا وطن اس کی وجہ سے خوب صورت اور باوقار بنے۔ شاعر علم کی شمع سے محبت، غریبوں اور کمزوروں کی مدد، دکھی انسانوں سے ہمدردی اور برائی سے بچنے کی توفیق مانگتا ہے۔ یہ نظم محض ایک دعا نہیں بلکہ ایک مثالی انسان کی شخصیت اور اس کی اخلاقی ذمہ د

📚 साहित्यिक समीक्षा

یہ نظم سادہ، دل نشیں اور دعائیہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ شمع، اجالا، پھول، چمن اور پروانے جیسی علامتیں اس کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں۔ شاعر نے بچوں کے لیے…

یہ نظم سادہ، دل نشیں اور دعائیہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ شمع، اجالا، پھول، چمن اور پروانے جیسی علامتیں اس کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں۔ شاعر نے بچوں کے لیے ایسی زبان اختیار کی ہے جسے آسانی سے سمجھا، یاد کیا اور عملی زندگی میں اپنایا جا سکتا ہے۔ نظم کی نغمگی اور دعائیہ کیفیت اسے اردو ادب میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔

🖋️ आलोचनात्मक समीक्षा

نظم کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں اخلاقی تعلیم کو نصیحت کے بجائے دعا کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر علم، ایثار، ہمدردی اور نیکی کو انسانی زندگی کی بنی…

نظم کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں اخلاقی تعلیم کو نصیحت کے بجائے دعا کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر علم، ایثار، ہمدردی اور نیکی کو انسانی زندگی کی بنیادی قدروں کے طور پر سامنے لاتا ہے۔ شمع کی طرح جلنے اور پروانے کی طرح علم سے محبت کرنے کے تصورات انسان کو قربانی اور مقصدیت کا سبق دیتے ہیں۔ نظم کا پیغام بچوں کے ساتھ بڑوں کے لیے بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔

✦ केंद्रीय विचार

اس نظم کا مرکزی خیال ایک ایسے انسان کی تربیت ہے جو اپنی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ علامہ اقبالؒ چاہتے ہیں کہ انسان علم …

اس نظم کا مرکزی خیال ایک ایسے انسان کی تربیت ہے جو اپنی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ علامہ اقبالؒ چاہتے ہیں کہ انسان علم حاصل کرے، اپنی زندگی کو روشنی کا ذریعہ بنائے، وطن کی ترقی میں حصہ لے، غریبوں اور کمزوروں کا سہارا بنے اور برائی سے بچتے ہوئے نیکی کی راہ پر چلے۔ نظم کا پیغام یہ ہے کہ حقیقی کامیابی صرف اپنی خوشی میں نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی بہتر بنانے اور اچھے کردار کے ساتھ جینے میں ہے۔

✦ शेर-दर-शेर व्याख्या

پہلا بند
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
مشکل الفاظ
لب: ہونٹ
تمنا: خواہش، آرزو
شمع: چراغ، موم بتی
خدایا: اے الل…

پہلا بند

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

مشکل الفاظ

لب: ہونٹ
تمنا: خواہش، آرزو
شمع: چراغ، موم بتی
خدایا: اے اللہ!

تشریح

شاعر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اس کے دل کی سب سے بڑی خواہش دعا بن کر اس کی زبان پر آتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی شمع کی مانند ہو، جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو صرف اپنی ذات کی خوشی کے لیے نہ گزارے بلکہ اپنے علم، کردار اور عمل سے دوسروں کے لیے فائدہ مند بنے۔

مرکزی مفہوم

انسان کی زندگی کا مقصد دوسروں کے لیے روشنی اور بھلائی کا ذریعہ بننا ہونا چاہیے۔

دوسرا بند

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

مشکل الفاظ

دور ہونا: ختم ہو جانا
مرے دم سے: میری وجہ سے
اندھیرا: تاریکی؛ یہاں جہالت اور برائی کا استعارہ
اجالا: روشنی؛ یہاں علم اور نیکی کا استعارہ

تشریح

شاعر چاہتا ہے کہ اس کے وجود اور کردار سے دنیا کی تاریکیاں دور ہوں۔ یہاں اندھیرے سے مراد صرف رات کی تاریکی نہیں بلکہ جہالت، ناانصافی، برائی اور ناامیدی بھی ہے۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ وہ علم، اچھے اخلاق اور نیک اعمال کے ذریعے جہاں بھی رہے، وہاں روشنی اور امید پھیلائے۔

مرکزی مفہوم

انسان کو اپنے اچھے کردار اور علم سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانی چاہیے۔

تیسرا بند

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

مشکل الفاظ

وطن: اپنا ملک
زینت: خوب صورتی، رونق
چمن: باغ
دم سے: وجود یا کوشش کی وجہ سے

تشریح

شاعر دعا کرتا ہے کہ اس کی ذات اور خدمات اس کے وطن کی خوب صورتی اور ترقی کا سبب بنیں۔ جس طرح پھول باغ کی رونق بڑھاتا ہے، اسی طرح ایک اچھا، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار انسان اپنے وطن کا نام روشن کرتا ہے۔ وطن کی خدمت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ علم، محنت، دیانت داری اور اچھے کردار سے ہوتی ہے۔

مرکزی مفہوم

ہر انسان کو اپنے کردار اور محنت سے اپنے وطن کی ترقی میں حصہ لینا چاہیے۔

چوتھا بند

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

مشکل الفاظ

پروانہ: وہ کیڑا جو چراغ کی روشنی کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔
علم: جاننے، سمجھنے اور سیکھنے کا عمل۔
محبت: لگاؤ، شوق، قلبی وابستگی۔

تشریح

شاعر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اسے علم سے ایسی محبت عطا ہو جو پروانے کے شمع کی طرف کھنچنے جیسی شدید ہو۔ پروانے کی علامت شوق اور لگن کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ سیکھنے کی خواہش اس کی زندگی کا مستقل حصہ بن جائے اور وہ علم حاصل کرنے کے لیے محنت کرتا رہے۔

مرکزی مفہوم

علم سے سچی محبت انسان کو ترقی، شعور اور کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔

پانچواں بند

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

مشکل الفاظ

حمایت: مدد، ساتھ دینا، حق میں کھڑا ہونا۔
دردمند: دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے والا۔
ضعیف: کمزور، ناتواں۔

تشریح

شاعر چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کا ایک اہم مقصد غریبوں، کمزوروں اور دکھ میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنا ہو۔ یہاں حمایت کا مطلب صرف ہمدردی کے الفاظ کہنا نہیں، بلکہ ضرورت مند کی عملی مدد کرنا اور اس کے حق کے لیے آواز اٹھانا بھی ہے۔ ایک اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کے کام آئے۔

مرکزی مفہوم

انسانیت کی حقیقی خدمت غریبوں اور کمزوروں کے ساتھ ہمدردی اور عملی تعاون میں ہے۔

چھٹا بند

مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

مشکل الفاظ

برائی: غلط، نقصان دہ یا غیر اخلاقی عمل۔
نیک: اچھا، بھلا، اخلاق کے مطابق۔
راہ: راستہ، طریقۂ زندگی۔

تشریح

نظم کے اختتام پر شاعر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اسے برے اعمال، غلط عادتوں اور بدکرداری سے محفوظ رکھے۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اسے نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق ملے۔ اس بند میں انسان کی اخلاقی اصلاح اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی مانگنے کا جذبہ نمایاں ہے۔

مرکزی مفہوم

انسان کو برائی سے بچنے، نیکی اپنانے اور درست راستے پر قائم رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے۔

مکمل نظم کا مجموعی تاثر

علامہ اقبالؒ کی یہ دعا ایک مثالی انسان کا تصور پیش کرتی ہے۔ ایسا انسان جو علم حاصل کرے، اپنی زندگی سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے، وطن کی ترقی میں حصہ لے، غریبوں اور کمزوروں کا سہارا بنے اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں نیکی کی راہ اختیار کرے۔
اس نظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بڑے اخلاقی اصولوں کو آسان اور یاد رہ جانے والے الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ بچوں کے لیے یہ کردار سازی کا سبق ہے اور بڑوں کے لیے اپنی زندگی کے مقاصد پر غور کرنے کی دعوت۔

✦ कलात्मक ख़ूबियाँ

سادگی: زبان عام فہم اور یاد رکھنے میں آسان ہے۔
تکرار: ’’یا رب‘‘ اور ’’خدايا‘‘ جیسے دعائیہ الفاظ التجا کے جذبے کو مضبوط کرتے ہیں۔
تشبیہ: زندگی کو شمع…

سادگی: زبان عام فہم اور یاد رکھنے میں آسان ہے۔
تکرار: ’’یا رب‘‘ اور ’’خدايا‘‘ جیسے دعائیہ الفاظ التجا کے جذبے کو مضبوط کرتے ہیں۔
تشبیہ: زندگی کو شمع اور پروانے کی صورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔
استعارہ: شمع اور اجالا علم، کردار اور نیکی کی روشنی کا تصور پیش کرتے ہیں۔
موسیقیت: مصرعوں کی روانی اور صوتی آہنگ نظم کو پُراثر بناتے ہیں۔
اخلاقی پیغام: ہر بند انسان کی کسی اہم خوبی یا ذمہ داری کو اجاگر کرتا ہے۔

✦ प्रतीकवाद

شمع: دوسروں کو روشنی دینے اور اپنے آپ کو خدمت کے لیے وقف کرنے کی علامت۔
اندھیرا: جہالت، برائی اور ناامیدی کی علامت۔
اجالا: علم، شعور، نیکی اور امید …

شمع: دوسروں کو روشنی دینے اور اپنے آپ کو خدمت کے لیے وقف کرنے کی علامت۔
اندھیرا: جہالت، برائی اور ناامیدی کی علامت۔
اجالا: علم، شعور، نیکی اور امید کی علامت۔
پھول اور چمن: خوب صورتی، وطن اور اجتماعی زندگی کی علامت۔
پروانہ: شوق، لگن اور مقصد کے لیے قربانی کی علامت۔
علم کی شمع: علم و شعور کی روشنی اور مسلسل سیکھنے کی خواہش۔

✦ रूपक और उपमाएँ

نظم میں زندگی کو شمع کی صورت قرار دینا ایک مؤثر تشبیہ ہے۔ جس طرح شمع خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے، اسی طرح انسان کو بھی اپنی صلاحیتوں سے دوسروں ک…

نظم میں زندگی کو شمع کی صورت قرار دینا ایک مؤثر تشبیہ ہے۔ جس طرح شمع خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے، اسی طرح انسان کو بھی اپنی صلاحیتوں سے دوسروں کے لیے فائدہ مند ہونا چاہیے۔ وطن کی زینت کو پھول سے تشبیہ دی گئی ہے، جب کہ پروانے کی صورت زندگی گزارنے کا تصور شوق، لگن اور مقصد کے لیے خود کو وقف کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ اندھیرے اور اجالے کا تقابل جہالت اور علم کے فرق کو نمایاں کرتا ہے۔

✦ शायर के वैचारिक आयाम

علامہ اقبالؒ کی فکر میں خودی، عمل، علم، بلند کردار اور اجتماعی بھلائی کو اہم مقام حاصل ہے۔ اس نظم میں بھی شاعر ایک ایسے انسان کی آرزو کرتا ہے جو محض ا…

علامہ اقبالؒ کی فکر میں خودی، عمل، علم، بلند کردار اور اجتماعی بھلائی کو اہم مقام حاصل ہے۔ اس نظم میں بھی شاعر ایک ایسے انسان کی آرزو کرتا ہے جو محض اپنے لیے نہ جیے بلکہ اپنے وطن اور انسانیت کے لیے مفید ثابت ہو۔ غریبوں کی حمایت اور کمزوروں سے محبت کے ذریعے اقبالؒ نے ہمدردی اور خدمت کو اچھے کردار کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے۔

✦ आज के दौर में ग़ज़ल की प्रासंगिकता

آج کے زمانے میں یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی یا اچھی ملازمت حاصل کرنا نہیں، بلکہ بہتر انسان بننا بھی ہے۔ معاشرے می…

آج کے زمانے میں یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی یا اچھی ملازمت حاصل کرنا نہیں، بلکہ بہتر انسان بننا بھی ہے۔ معاشرے میں نفرت، خود غرضی اور ناانصافی کے مقابلے میں علم، ہمدردی اور خدمتِ خلق کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر بچے اس دعا کے پیغام کو اپنی زندگی میں اپنائیں تو وہ علم دوست، ذمہ دار، محبِ وطن اور دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے والے انسان بن سکتے ہیں۔

← पिछला अगला →

✍️ محمد اقبال — संक्षिप्त परिचय

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

और पढ़ें ←
نظم क्या है?

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال की और रचनाएँ
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سنا دی...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک وطنیت صدا...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन