اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

وہ مخالف ہو مری بات کا ایسا بھی نہیں

ثمامہ اقبال بدھ، 3 جون 2026
👁 40 ❤️ 0
وہ مخالف ہو مری بات کا ایسا بھی نہیں
میری آواز میں آواز مِلاتا بھی نہیں
پھول چُنتا ہوں ترے نقشِ قدم کے جاناں
تونے پیچھے کی طرف مُڑ کے یہ دیکھا بھی نہیں
وعدہ شِکنی مرے مسلک میں نہیں ہے یارو!
ایسے لوگوں سے مرا دور کا رشتہ بھی نہیں
رَوند کر مجھکو گزر جاتے ہیں دنیا والے
میرا دُکھ درد کوئی پوچھنے والا بھی نہیں
بیچ دریا میں ہے کشتئ محبت اپنی
کوئی ساحل بھی نہیں کوئی کنارا بھی نہیں
اپنے محبوب سے ملنے کی تمنا ہے مگر
آنے جانے کا مرے پاس کرایا بھی نہیں
تنگ دستی تری زنجیر میں جکڑے ہیں قدم
دستِ شفقت بھی نہیں باپ کا سایا بھی نہیں
یا ملے فتحِ مبیں یا کہ شہادت ہم کو
بچ نکلنے کا کوئی دوسرا چارا بھی نہیں
کس سے پوچھو گے خبر مُلکِ عدم کی اقبالؔ
جانے والا تو کوئی لَوٹ کے آتا بھی نہیں
📖 Summary

ثمامہ اقبالؔ مئوی کی یہ غزل زندگی کے دکھ، غربت، تنہائی اور عشق کی نامکمل خواہشات کو نہایت اثر انگیز انداز میں بیان کرتی ہے۔ ہر شعر احساس اور حقیقت کا عکاس ہے۔
یہ غزل زندگی کے کرب، محرومی، تنہائی اور معاشرتی بے حسی کی گہری تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر ایسے احساسات کو بیان کرتا ہے جہاں انسان اپنی حالتِ زار کے باوجود خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ محبت اپنی جگہ موجود ہے مگر وسائل اور حالات کی تنگی اسے تکمیل تک نہیں پہنچنے دیتی۔ کہیں وہ بے سہارگی اور غربت کا ذکر کرتا ہے، کہیں زندگی کو دریا میں ڈوبی کشتی سے

← Previous Next →

✍️ ثمامہ اقبال — Short Introduction

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ثمامہ اقبال
مرا یہ جسم تو خالی گلاس ہے گویا کہ میرا دل تو حسینوں کے پاس ہے گویا مری شَبیہ نمایاں ہے میرے شعروں س...
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے "زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے" ہماری آنکھ سے ...
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے سوکھ جائیں گے مری شوخ تمنا ک...
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُٹھے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online