اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

ہے خطا انسان کی فطرت تو نادانی کرے

ثمامہ اقبال بدھ، 3 جون 2026
👁 49 ❤️ 0
ہے خطا انسان کی فطرت تو نادانی کرے
ہاں مگر اپنے گناہوں پر پشیمانی کرے
ذکر سے تیرے مہک جائے دل و جاں کا حرم
سانس ہر لمحہ فقط تیری ثنا خوانی کرے
قبر میں بھی ہو اُجالا تیری رحمت کے سبب
نُور تیری یاد کا ظُلمت پہ سُلطانی کرے
رحمتوں پہ رحمتیں کرتا ہی جاتا ہے خدا
آدمِ خاکی یہ چاہے جتنی نادانی کرے
بارگاہِ حُسن میں اک بار سجدہ کر کے دیکھ
یہ تری تسکینِ دل، تسکینِ روحانی کرے
آيَةُ الكُرْسِی کو پڑھنا اپنا تو شیوہ بنا
تاکہ تیری رات بھر اللّٰہ نِگرانی کرے
دل بھی اُس کا جاں بھی اُس کی اور یہ اقبالؔ بھی
اُس سے کہہ دو شوق سے آ کر وہ سلطانی کرے
📖 Summary

یہ غزل روحانی فکر، ندامت اور بندگی کے احساسات سے بھرپور ہے۔ شاعر انسان کی فطرت میں موجود خطا اور کمزوری کو تسلیم کرتے ہوئے توبہ اور پشیمانی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کلام میں اللہ تعالیٰ کی رحمت، ذکر کی برکت اور یادِ الٰہی کی روحانی تاثیر کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ قبر کی تاریکی سے لے کر دل کے سکون تک، ہر جگہ نورِ الٰہی کو نجات اور روشنی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ غزل کا مجموعی مزاج اصلاحی، عقیدت آمیز اور روح پرور ہے۔
ثمامہ اقبالؔ مئوی کی یہ روحانی غزل انسان کی خطا، توبہ، ذکرِ الٰہی اور ر

← Previous Next →

✍️ ثمامہ اقبال — Short Introduction

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ثمامہ اقبال
مرا یہ جسم تو خالی گلاس ہے گویا کہ میرا دل تو حسینوں کے پاس ہے گویا مری شَبیہ نمایاں ہے میرے شعروں س...
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے "زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے" ہماری آنکھ سے ...
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے سوکھ جائیں گے مری شوخ تمنا ک...
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُٹھے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online