ہے خطا انسان کی فطرت تو نادانی کرے
یہ غزل روحانی فکر، ندامت اور بندگی کے احساسات سے بھرپور ہے۔ شاعر انسان کی فطرت میں موجود خطا اور کمزوری کو تسلیم کرتے ہوئے توبہ اور پشیمانی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کلام میں اللہ تعالیٰ کی رحمت، ذکر کی برکت اور یادِ الٰہی کی روحانی تاثیر کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ قبر کی تاریکی سے لے کر دل کے سکون تک، ہر جگہ نورِ الٰہی کو نجات اور روشنی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ غزل کا مجموعی مزاج اصلاحی، عقیدت آمیز اور روح پرور ہے۔
ثمامہ اقبالؔ مئوی کی یہ روحانی غزل انسان کی خطا، توبہ، ذکرِ الٰہی اور ر
✍️ ثمامہ اقبال — Short Introduction
ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




No comments yet — be the first!