اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو

ثمامہ اقبال بدھ، 3 جون 2026
👁 37 ❤️ 1
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو
اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو
میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُٹھے گی
"اپنے احساس سے چھوکر مجھے صندل کردو"
خشک ہیں کام و دہن، تشنہ بہ لب ہوں کب سے
ایسے برسو کہ مرے جسم کو جل تھل کردو
ایک مصرع کی طرح میری ادھوری ہے حیات
مصرعۂ ثانی کہو مجھ کو مُکمّل کردو
دل کے حُجرے میں کوئی چور بھی آ سکتا ہے
رات جب ہو گئی دروازہ مُقَفّل کردو
چھوڑ کے شہر چلے جائیں غزالوں سے کہو
یا کہ پھر ایسا کرو شہر کو جنگل کردو
میری اُلجھن بھی ہے اُلجھی ہوئی زُلفیں اقبالؔ
ایک پیچیدہ مُعَمّہ ہوں مجھے حَل کردو
📖 सार

یہ غزل عشق، بے چینی اور جذباتی شدت کے حسین امتزاج پر مشتمل ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے مکمل وابستگی اور جذباتی سپردگی کا اظہار کرتا ہے۔ کہیں وہ محبت کو تکمیلِ حیات قرار دیتا ہے، کہیں خود کو ادھورا مصرع کہہ کر محبوب سے مکمل ہونے کی التجا کرتا ہے۔ غزل میں عشق کی بے قراری، روحانی طلب، اور داخلی کیفیات کی شدت نمایاں ہے۔ ہر شعر محبت کے مختلف رنگ—طلب، تسلیم، تڑپ اور خود سپردگی—کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔
ثمامہ اقبالؔ مئوی کی یہ خوبصورت غزل عشق، ادھورے پن، محبوب سے وابستگی اور جذباتی شدت کی دل نشین ت

← पिछला अगला →

✍️ ثمامہ اقبال — संक्षिप्त परिचय

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ثمامہ اقبال की और रचनाएँ
مرا یہ جسم تو خالی گلاس ہے گویا کہ میرا دل تو حسینوں کے پاس ہے گویا مری شَبیہ نمایاں ہے میرے شعروں س...
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے "زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے" ہماری آنکھ سے ...
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے سوکھ جائیں گے مری شوخ تمنا ک...
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُٹھے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन