اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

ترے خیال سے بہتر کوئی خیال نہیں | ہاشم اسدؔ کی نعتیہ غزل

ہاشم اسدؔ بدھ، 3 جون 2026
👁 170 ❤️ 2
ترے خیال سے بہتر کوئی خیال نہیں
ترے وصال سے بہتر کوئی وصال نہیں
بہت حسین تھے یوسف یہ ہے بجا لیکن
ترے جمال سے بہتر کوئی جمال نہیں
حیات آج بھی تو قبر میں ہے پہلے سا
ترے وجود کو بے شک کوئی زوال نہیں
ترے دیار میں ہوں گے کئی بلال مگر
ترے بلال سے بہتر کوئی بلال نہیں
وہ جن کو دیکھ کے شیطان بھی لرز جائے
ترے عمر سا کسی شخص کا جلال نہیں
ہےتجھسےرشتہ یہ کہتےہیں ہم جہاں بھرسے
تری وفا کا مگر کیوں کوئی خیال نہیں
ترے طریقہ سے رہتے ہیں دور ہم کوسوں
کہے ہیں خودکومسلماں مگر ملال نہیں
تری جدائی میں پل پل اسد تڑپتا ہے
کہےبھی کیسےترےہجر سےنڈھال نہیں
📖 सार

ہاشم اسدؔ کی عقیدت بھری نعتیہ غزل "ترے خیال سے بہتر کوئی خیال نہیں" عشقِ رسول ﷺ، صحابۂ کرامؓ کی عظمت، وفا، اتباعِ سنت اور روحانی وابستگی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے محبتِ مصطفیٰ ﷺ اور اسلامی کردار کی اہمیت کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔
یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ اور صحابۂ کرامؓ سے عقیدت کا دل نشین اظہار ہے۔ شاعر حضور اکرم ﷺ کے جمال، کمال اور عظمت کو بے مثال قرار دیتے ہوئے حضرت بلالؓ اور حضرت عمرؓ کی فضیلت و جلال کا ذکر کرتا ہے۔ ساتھ ہی موجودہ مسلمانوں کو سنتِ نبوی ﷺ سے دوری پر متوجہ کرتے ہوئے خ

← पिछला अगला →

✍️ ہاشم اسدؔ — संक्षिप्त परिचय

ہاشم اسدؔ
📍 لکھیم پور،اتر پردیس،ہندوستان

محمد ہاشم ادریسی، جن کا ادبی و قلمی نام ہاشم اسدؔ لبیدپوری ہے، اردو شعر و ادب کے اُن باصلاحیت تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی فکری سنجیدگی، ادبی ذوق اور تخلیقی شعور کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ کی ولادت 30 جون 1992ء کو گرام لبیدپور، ضلع لکھیم پور کھیری، ریاست اترپردیش (ہندوستان) میں ہوئی۔
ابتدائی زندگی سے ہی مطالعہ، علم دوستی اور ادبی ذوق آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف رہا۔ …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ہاشم اسدؔ की और रचनाएँ
ترے خیال سے بہتر کوئی خیال نہیں ترے وصال سے بہتر کوئی وصال نہیں بہت حسین تھے یوسف یہ ہے بجا لیکن ترے...
ہر طرف ظلم و تباہی کے سمندر دیکھے پھول سے دل کی جگہ سینوں میں پتھر دیکھے اور پھر یوں بھی ہوا نفرتیں ...
اُس کی ہر حال میں ہم سب پہ عطا آتی ہے فعل اچھا ہو تو پھر اُس کی رضا آتی ہے اُس کی مرضی کے بنا کچھ بھ...
جب بھی دیکھے گا مجھے اپنا ہوا دیکھے گا میرے محبوب! سدا مجھ میں وفا دیکھے گا ہم سفر تجھ سا میسر ہو زم...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन