اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
متفرق

جس دل میں ترے نام کا سورج نہ ہو روشن

ہاشم اسد لبیدپوری منگل، 2 جون 2026
👁 34 ❤️ 0
جس دل میں ترے نام کا سورج نہ ہو روشن
اس دل میں اجالا کبھی ہو ہی نہیں سکتا
📖 Summary

یہ شعر محبت کو روشنی اور زندگی کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس دل میں محبوب کے نام کا سورج روشن نہ ہو، وہاں حقیقی اجالا اور سکون ممکن ہی نہیں۔ اس میں عشقِ محبوب کو روحانی روشنی اور دل کی بیداری کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
"جس دل میں ترے نام کا سورج نہ ہو روشن، اس دل میں اجالا کبھی ہو ہی نہیں سکتا" ایک خوبصورت اردو شعر ہے جو محبت، وفا اور دل کی روحانی روشنی کو علامتی انداز میں بیان کرتا ہے۔

← Previous Next →
More by ہاشم اسد لبیدپوری
یہ بات اور ہے خود کو حسینی کہتے ہیں ہمارے کام مگر سب یزید والے ہیں
ہم آپ کے خیال سے مردہ ضمیر ہیں پھر آپ کا خیال تو بالکل درست ہے
محبت سردیوں سے کم نہیں جسے لاگے اسے بیمار کردے
پیار پانا ہی پیار تھوڑی ہے تیاگ دینا بھی پیار ہے ہاشم
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online