متفرق
محبت سردیوں سے کم نہیں
ہاشم اسد لبیدپوری
منگل، 2 جون 2026
👁 34
❤️ 0
محبت سردیوں سے کم نہیں
جسے لاگے اسے بیمار کردے
📖 सार
"محبت سردیوں سے کم نہیں، جسے لگے اسے بیمار کر دے" ایک خوبصورت اردو شعر ہے جو محبت کی شدت، اس کے اثرات اور جذباتی کیفیات کو سرد موسم کی مثال سے بیان کرتا ہے۔
یہ شعر محبت کو سردیوں کی شدت سے تشبیہ دیتا ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ محبت بھی سرد موسم کی طرح ہے جو ہر کسی پر یکساں اثر نہیں کرتی بلکہ جس کے دل کو لگ جائے اسے بے قرار اور بیمار کر دیتی ہے۔ اس میں محبت کی شدت، اس کی کیفیت اور دل پر اس کے اثرات کو نہایت سادہ مگر بامعنی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
#اردو شاعری
#محبت کی شاعری
#رومانوی شعر
#جدید اردو غزل
#جذباتی شاعری
#عشق و محبت
#اردو ادب
#خوبصورت شعر
#دل کی بات
#عاشقانہ شاعری
#سردیوں کی تشبیہ
#اردو اشعار
#Urdu Shayari
#Love Poetry
#Romantic Poetry
#Emotional Poetry
#Urdu Literature
#Ishq Mohabbat
#Winter Metaphor Poetry
ہاشم اسد لبیدپوری की और रचनाएँ
یہ بات اور ہے خود کو حسینی کہتے ہیں ہمارے کام مگر سب یزید والے ہیں
ہم آپ کے خیال سے مردہ ضمیر ہیں پھر آپ کا خیال تو بالکل درست ہے
پیار پانا ہی پیار تھوڑی ہے تیاگ دینا بھی پیار ہے ہاشم
مرے دل کے کھنڈر میں اب بھی ہاشم کسی کی یاد کا سایہ ہے رہتا




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!