میرے مجروح خیالات کو صندل کر دو | منتظم عاصیؔ کی غزل
منتظم عاصیؔ کی دل نشین غزل "میرے مجروح خیالات کو صندل کر دو" عشق، وفا، جدائی، یادِ محبوب اور جذباتی کیفیات کی عکاس ہے۔ اس غزل میں شاعر نے محبت کے درد، آرزو اور قلبی احساسات کو نہایت خوبصورتی سے شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔
یہ غزل محبت کے گہرے جذبات، محبوب کی یاد، عشق کی بے قراری اور دل کی کیفیات کا حسین اظہار ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے قربت، توجہ اور محبت کی تمنا کرتا ہے جبکہ عشق کے زخموں کو بھی خوش دلی سے قبول کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اشعار میں رومانویت، درد اور جذباتی سچائی نمایاں ہے۔
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!