متفرق
ہم آپ کے خیال سے مردہ ضمیر ہیں
ہاشم اسد لبیدپوری
منگل، 2 جون 2026
👁 31
❤️ 0
ہم آپ کے خیال سے مردہ ضمیر ہیں
پھر آپ کا خیال تو بالکل درست ہے
📖 सार
"ہم آپ کے خیال سے مردہ ضمیر ہیں، پھر آپ کا خیال تو بالکل درست ہے" ایک طنزیہ اردو شعر ہے جو معاشرتی بے حسی، ضمیر کی کمزوری اور خود احتسابی کے احساس کو مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے۔
یہ شعر طنزیہ اور خود احتسابی کے انداز میں کہا گیا ہے۔ شاعر مخاطب کے الزام کو تسلیم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر آپ ہمیں "مردہ ضمیر" سمجھتے ہیں تو شاید آپ کی بات درست ہی ہے۔ اس میں ایک طرف معاشرتی بے حسی اور اخلاقی زوال کی طرف اشارہ ہے تو دوسری طرف خود پر تنقیدی نظر ڈالنے کا پہلو بھی شامل ہے۔ شعر کا انداز سادہ مگر گہرا طنزی
#اردو شاعری
#طنزیہ شعر
#مردہ ضمیر
#خود احتسابی
#معاشرتی تنقید
#اردو ادب
#جدید اردو شاعری
#فکر انگیز شعر
#سماجی حقیقت
#اخلاقی زوال
#اردو اشعار
#سوشل پوئٹری
#Urdu Shayari
#Satirical Poetry
#Moral Decline
#Social Criticism
#Urdu Literature
#Thought Provoking Poetry
#Contemporary Urdu Poetry
ہاشم اسد لبیدپوری की और रचनाएँ
یہ بات اور ہے خود کو حسینی کہتے ہیں ہمارے کام مگر سب یزید والے ہیں
محبت سردیوں سے کم نہیں جسے لاگے اسے بیمار کردے
پیار پانا ہی پیار تھوڑی ہے تیاگ دینا بھی پیار ہے ہاشم
مرے دل کے کھنڈر میں اب بھی ہاشم کسی کی یاد کا سایہ ہے رہتا




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!