اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے

ثمامہ اقبال پیر، 1 جون 2026
👁 39 ❤️ 0
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے
"زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے"
ہماری آنکھ سے ٹپکے ہوئے یہ آنسو ہیں
ستارے شام کی زُلفوں میں جگمگائے ہوئے
شُعورِ عصر کے ماتھے پہ سِلوٹیں کیوں ہیں
میں ایک شہر محبت کا ہوں بسائے ہوئے
فضائے شعر و سُخن راس اب نہیں آتی
زمانہ ہو گیا اک شعر گنگنائے ہوئے
شبِ فراق تری شوخئ خیال کے بُت
نگاہِ شوق میں بیٹھے ہیں سر جھکائے ہوئے
ذہینِ گردشِ حالات ہیں یہ سچ ہے! مگر
کسی کے عشق میں ہم خود کو ہیں مٹائے ہوئے
کھڑا ہے تیز ہواؤں کے درمیاں اقبالؔ
جنوں کے راہ گزر میں دیا جلائے ہوئے
📖 Summary

حوادثِ زمانہ، عشق اور امید کا استعارہ | ثمامہ اقبال کی فکر انگیز غزل

ثمامہ اقبال کی یہ خوبصورت غزل زندگی کے حوادث، عشق کی وارفتگی، فراق کی کیفیات اور امید کے استعاروں کو سموئے ہوئے ہے۔ شاعر نے جدید دور کی فکری الجھنوں، محبت کی لطافتوں اور حالات کے طوفان میں ثابت قدمی کے جذبے کو نہایت مؤثر اور دل نشیں انداز میں پیش کیا ہے۔
یہ غزل انسانی جذبات، عشق کی شدت، زمانے کی بے مہری اور امید کے چراغ کی علامت ہے۔ ثمامہ اقبال نے اپنے اشعار میں زندگی کے نشیب و فراز، فراق کی راتوں، محبت کے خوابوں اور حالات

← Previous Next →

✍️ ثمامہ اقبال — Short Introduction

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ثمامہ اقبال
مرا یہ جسم تو خالی گلاس ہے گویا کہ میرا دل تو حسینوں کے پاس ہے گویا مری شَبیہ نمایاں ہے میرے شعروں س...
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے "زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے" ہماری آنکھ سے ...
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے سوکھ جائیں گے مری شوخ تمنا ک...
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُٹھے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online