غزل
کرتا بھی ادا کیسے ترے پیار کی قیمت
ہاشم حسین انور حسین
جمعرات، 28 مئی 2026
👁 42
❤️ 1
کرتا بھی ادا کیسے ترے پیار کی قیمت
تھی ترکِ تعلق ترے اقرار کی قیمت
جب کر نہیں سکتا تو ادا پیار کی قیمت
بیکار لگاتا ہے یہ بیکار کی قیمت
آتے ہی رہے راہِ محبت میں خم و پیچ
گرنے نہ کبھی دی ترے اقرار کی قیمت
پہلے تو فقط فن کی خریدار تھی دنیا
اب روز لگا کرتی ہے فنکار کی قیمت
گمراہیوں ہمدردیوں غیبت سے بھری سب
خبروں نے گرا دی ہر اک اخبار کی قیمت
احساس کی چادر کا کوئی مول نہیں ہے
ہوتی ہے مگر بسترِ بیمار کی قیمت
وہ شوخ لبادہ ہو کہ پیسہ ہو کہ شہرت
ان سے نہیں بڑھتی کبھی کردار کی قیمت
پھر کر تو زرا دیکھ جو دیکھا نہیں تُو نے
کیا کیا نہ ادا کی ترے دیدار کی قیمت
خود لاش جواں بیٹے کی کاندھے پہ اٹھا کر
اک باپ ادا کرتا ہے رفتار کی قیمت
نواب کی تذلیل پہ حیران ہے ہاشمؔ
اس درجہ اتر جائے گی دستار کی قیمت
📖 Summary
یہ غزل انسانی رشتوں، محبت، کردار، سماجی زوال اور وقت کی بےقدری جیسے موضوعات کو نہایت فکری اور درد بھرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ شاعر نے “قیمت” کے استعارے کے ذریعے محبت، وفا، فن، احساس، کردار اور عزت کی اصل اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
اشعار میں یہ احساس نمایاں ہے کہ دنیا نے ہر چیز کو مادّی پیمانوں میں تولنا شروع کر دیا ہے، مگر کچھ اقدار ایسی ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی، جیسے محبت کی سچائی، احساس کی گرمی، کردار کی عظمت اور باپ کی قربانی۔
شاعر نے موجودہ معاشرے کی تلخ حقیقتوں پر بھی گہرا طنز
#قیمت
#اردو غزل
#غزل شاعری
#جدید اردو شاعری
#محبت کی شاعری
#درد بھری شاعری
#ہاشمؔ شاعری
#اردو ادب
#فکری شاعری
#سماجی شاعری
#emotional Urdu poetry
#Urdu ghazal
#deep poetry Urdu
#sad poetry
#love poetry Urdu
#literary poetry
#social issues poetry
#heart touching ghazal
#best Urdu shayari
#poetic emoti
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...




No comments yet — be the first!