اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

ہوش والے سنبھال کر رکھنا

ہاشم حسین انور حسین جمعرات، 28 مئی 2026
👁 52 ❤️ 3
ہوش والے سنبھال کر رکھنا
منہ پہ تالے سنبھال کر رکھنا
درد والے سنبھال کر رکھنا
دل میں چھالے سنبھال کر رکھنا
شعر گوئی میں کام آئیں گے
سب مسالے سنبھال کر رکھنا
ماں کو ممتا نے کردیا مجبور
کچھ نوالے سنبھال کر رکھنا
راہِ الفت یہ چیخ کر بولی
اپنے چھالے سنبھال کر رکھنا
بھیڑ ہے میکشوں کی پیرِ مغاں
تم پیالے سنبھال کر رکھنا
مات دینا ہے تیرگی کو اگر
” کچھ اُجالے سنبھال کر رکھنا“
تم کو رونا ہے میری میت پر
چند نالے سنبھال کر رکھنا
ان کی یادوں کے آنکھوں کے ہاشم
گرد ہالے سنبھال کر رکھنا
📖 Summary

یہ غزل انسانی جذبات، درد، محبت، یادوں اور زندگی کے تجربات کو نہایت خوبصورت اور علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر نے مختلف استعاروں جیسے “تالے”، “چھالے”، “پیالے”، “اُجالے” اور “نالے” کے ذریعے زندگی کے تلخ و شیریں احساسات کو بیان کیا ہے۔
اشعار میں کہیں محبت کی راہ کے زخم ہیں، کہیں ماں کی ممتا کی قربانی، کہیں شاعری کے لیے درد کو سنبھالنے کا پیغام، اور کہیں اندھیروں کے مقابل امید کے چراغ محفوظ رکھنے کی تلقین ملتی ہے۔
غزل کا اسلوب نرم، فکری اور جذباتی ہے، جو قاری کو اپنے اندر چھپے احساسات سے جوڑ د

← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online