اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

جنبش نہ دو زباں کو خبردار چپ رہو

ہاشم حسین انور حسین اتوار، 24 مئی 2026
👁 59 ❤️ 2
دنیائے بےثبات کے بیمار چپ رہو
جنبش نہ دو زباں کو خبردار چپ رہو
ہر بار صرف تم نے سنائی ہے داستاں
محفل میں التجا ہے کہ اس بار چپ رہو
ہر شخص کو سناتے ہو فرقت کا واقعہ
کتنا کرو گے خود کو گنہگار چپ رہو
بیٹھے ہوئے ہیں بزم میں چپ چاپ دیکھیے
اعلان کرکے طالب دیدار چپ رہو
جو اپنے حق میں آج تلک بولتے نہ تھے
ان سے کہہ گا؟ آج یہ سنسار چپ رہو
بس، عین، شین، قاف کی حرمت کے واسطے
تسلیم کر رہا ہوں نا میں ہار چپ رہو
یہ کون کہہ رہا ہے بھری بزم میں فضول
ہاشم سے بار بار لگاتار چپ رہو
📖 Summary

یہ غزل خاموشی، ضبطِ زبان اور داخلی کیفیت کو نہایت گہرے علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے بار بار خاموش رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اسے احساس دلاتا ہے کہ دنیا کی محفلوں میں ہر بات کہنا ضروری نہیں ہوتا۔
غزل میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ انسان اکثر اپنی دکھ بھری کہانیوں، محرومیوں اور جذبات کو بار بار بیان کرکے خود کو مزید بوجھ میں مبتلا کر لیتا ہے، اس لیے بعض اوقات خاموشی ہی وقار اور نجات کا راستہ ہے۔ شاعر محفل کے آداب، خود احتسابی اور جذبات پر قابو پانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ا

← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online