اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں

خضر احمد خان شررؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 44 ❤️ 1
جو بھی در سے ترے گزرتے ہیں
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں
ڈُوبتے ہیں کبھی اُبھرتے ہیں
یونہی ہم لوگ روز مرتے ہیں
ہم پروں کا گلہ نہیں کرتے
حوصلوں سے اڑان بھرتے ہیں
دیکھنے تیری چاند سی صورت
شام سے ڈوبتے ابھرتے ہیں
نیند کا خواب چاند کی پریاں
کون جانے کہاں اُ ترتے ہیں
منزلِ عشق پا ہی لیتے ہیں
یہ مسافر کہاں ٹہرتے ہیں
📖 Summary

یہ خوبصورت غزل خضر احمد خان شر کی ایک پراثر تخلیق ہے، جس میں عشق، خوف، حوصلہ اور مسلسل جدوجہد کی کیفیات کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
شاعر بتاتا ہے کہ محبوب کے در سے گزرنے والے لوگ ایک عجیب ہیبت اور خوف میں مبتلا رہتے ہیں، گویا عشق ایک ایسا تجربہ ہے جس میں جینا بھی ہے اور مرنا بھی۔ روز مرہ کی زندگی کو وہ ڈوبنے اور ابھرنے سے تعبیر کرتا ہے، یعنی انسان مسلسل آزمائش اور جذباتی اتار چڑھاؤ میں رہتا ہے۔
غزل میں ایک مثبت پہلو بھی نمایاں ہے کہ انسان کو اپنی کمزوریوں کا شکوہ کرنے کے ب

← Previous Next →

✍️ خضر احمد خان شررؔ — Short Introduction

خضر احمد خان شررؔ
📍 پربھنی، مہاراشٹر، ہندوستان

خضر احمد خان شررؔ عصرِ حاضر کے اُن سنجیدہ اور باوقار شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا ہے۔ آپ کا اصل نام خضر احمد خان جبکہ قلمی نام شررؔ ہے۔ آپ 9 فروری 1970ء کو پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم کے طور پر ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
ادب سے شغف نے آپ کو شعر و سخن کی دنیا کی طرف متوجہ کیا اور سن 2000ء میں باقاعدہ طور پر طبع آزمائی کا آغاز …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by خضر احمد خان شررؔ
مر گئے ہم سبو سبو کر کے اس سے ملنے کی آرزو کر کے جا چکا ہے وہ گفتگو کر کے چاک سینے کے سب رفو کرکے اس...
ہنستے ہنستے رلا دیا مجھ کو اس نے پاگل بنا دیا مجھ کو منزل ِ شاد کا پتا دیکر راستہ بھی بتا دیا مجھ کو...
کتابوں سے جی ہم لگانے لگے ہیں نئے لفظ کاغذ پہ آنے لگے ہیں ندی کے کنارے بتانے لگے ہیں پرندے کہیں اور ...
مبارک تمھیں زندگی کے اجالے چلے , ہم نہیں لوٹ کر آنے والے مرے لب سے چھینے ہیں جِس نے نوالے حوالے خدا ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online