اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

نئے لفظ کاغذ پہ آنے لگے ہیں

خضر احمد خان شررؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 38 ❤️ 1
کتابوں سے جی ہم لگانے لگے ہیں
نئے لفظ کاغذ پہ آنے لگے ہیں
ندی کے کنارے بتانے لگے ہیں
پرندے کہیں اور جانے لگے ہیں
پرانے شجر تو پرانے لگے ہیں
نئے پودے سر اب اُٹھانے لگے ہیں
ہمارے دلوں میں خلش آ گئی ہے
تعلق مگر ہم نبھانے لگے ہیں
تری روشنی رکھ ترے پاس سورج
اندھیروں میں ہم جگمگانے لگے ہیں
نہیں دل پہ قابو نہیں آج اُن کا
مرے بازؤوں میں سمانے لگے ہیں
نہیں کوئی ان کا ٹھکانہ نہیں ہے
ٹھکانے ہی سارے ٹھکانے لگے ہیں
📖 Summary

یہ خوبصورت اور فکری غزل خضر احمد خان شر کی تخلیق ہے، جس میں تبدیلی، شعور، محبت اور خود اعتمادی کے مختلف پہلو نہایت دلنشین انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
شاعر ابتدا میں علم و ادب کی طرف رجحان کو ظاہر کرتا ہے کہ اب وہ کتابوں سے دل لگانے لگا ہے اور نئے خیالات الفاظ کی صورت میں کاغذ پر اُترنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فطرت اور ماحول میں بھی تبدیلی کا ذکر ہے—پرندوں کا رخ بدلنا اور نئے پودوں کا اُگنا—جو ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔
غزل میں ایک داخلی کشمکش بھی جھلکتی ہے، جہاں دلوں میں خلش ہونے کے باوجود ر

← Previous Next →

✍️ خضر احمد خان شررؔ — Short Introduction

خضر احمد خان شررؔ
📍 پربھنی، مہاراشٹر، ہندوستان

خضر احمد خان شررؔ عصرِ حاضر کے اُن سنجیدہ اور باوقار شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا ہے۔ آپ کا اصل نام خضر احمد خان جبکہ قلمی نام شررؔ ہے۔ آپ 9 فروری 1970ء کو پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم کے طور پر ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
ادب سے شغف نے آپ کو شعر و سخن کی دنیا کی طرف متوجہ کیا اور سن 2000ء میں باقاعدہ طور پر طبع آزمائی کا آغاز …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by خضر احمد خان شررؔ
مر گئے ہم سبو سبو کر کے اس سے ملنے کی آرزو کر کے جا چکا ہے وہ گفتگو کر کے چاک سینے کے سب رفو کرکے اس...
ہنستے ہنستے رلا دیا مجھ کو اس نے پاگل بنا دیا مجھ کو منزل ِ شاد کا پتا دیکر راستہ بھی بتا دیا مجھ کو...
کتابوں سے جی ہم لگانے لگے ہیں نئے لفظ کاغذ پہ آنے لگے ہیں ندی کے کنارے بتانے لگے ہیں پرندے کہیں اور ...
مبارک تمھیں زندگی کے اجالے چلے , ہم نہیں لوٹ کر آنے والے مرے لب سے چھینے ہیں جِس نے نوالے حوالے خدا ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online