اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

بستیاں موم کی اور نگر موم کے

فیاض سالکؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 40 ❤️ 1
بستیاں موم کی اور نگر موم کے
پتھروں کا جگر ہے بشر موم کے
اُن کو سورج پہ تنقید کا حق نہیں
جن کے ہوتے ہیں دیوار و درموم کے
جن کے سائے میں تھا دھوپ کا یہ سفر
ہوگئے ہیں وہ سارے شجر موم کے
وہ مخالف ہوا سے الجھتے نہیں
جن پرندوں کے ہوتے ہیں پر موم کے
موم پر شعر سالک جو میں نے کہیں
لوگ آنے لگے ہیں نظر موم کے
📖 Summary

فیاض سالک کی یہ غزل انسانی کمزوری، مصنوعی پن اور معاشرتی زوال کو علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر نے “موم” کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کے ذریعے وہ یہ بتاتا ہے کہ آج کے انسان اور معاشرے میں مضبوطی، سچائی اور استقلال کی کمی ہو چکی ہے۔

ابتدا میں وہ کہتا ہے کہ بستیاں اور شہر تو موم کے بن گئے ہیں، مگر انسان کا دل (جو پتھر جیسا ہونا چاہیے تھا) بھی اب کمزور ہو گیا ہے۔ یعنی ظاہری دنیا بھی ناپائیدار ہے اور انسان کا باطن بھی مضبوط نہیں رہا۔

شاعر یہ بھی واضح کرتا ہے کہ جو لوگ خود کم

← Previous Next →

✍️ فیاض سالکؔ — Short Introduction

فیاض سالکؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

فیاض احمد عقیل احمد جن کا قلمی نام فیاض سالک ہے، عصرِ حاضر کے اُن ابھرتے ہوئے شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشاعراتی روایت اور ادبی تربیت کے سائے میں اپنی شعری شناخت قائم کی۔ آپ کی ولادت 01 جون 1984ء کو مالیگاؤں، مہاراشٹر (بھارت) میں ہوئی۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کو ادبی ماحول میسر آیا، کیونکہ آپ اپنے والدِ محترم کے ہمراہ مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ یہی ادبی فضا آپ کے اندر شعری ذوق کی بیداری کا …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by فیاض سالکؔ
یادِ احمدﷺمیں بہے جب بھی ہمارے آنسو بن گئے مثلِ قمر سارے کے سارے آنسو چین آئے گا سکوں دل کو میسر ہوگ...
چراغ بن کہ سرِ راہ جلنا پڑتا ہے مزاج ظلمتِ شب کا بدلنا پڑتا ہے کبھی حیات گذرتی ہے دامنِ گل میں برہنہ...
بستیاں موم کی اور نگر موم کے پتھروں کا جگر ہے بشر موم کے اُن کو سورج پہ تنقید کا حق نہیں جن کے ہوتے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online