اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

خود کو مشکل سے کبھی میں نے نکالا بھی نہیں

شاہد وصیؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 31 ❤️ 1
خود کو مشکل سے کبھی میں نے نکالا بھی نہیں
اور مشکل میں کسی شخص کو ڈالا بھی نہیں
مجھ کو سقراط سمجھتے ہیں زمانے والے
میرے ہونٹوں پہ کوئی زہر کا پیالہ بھی نہیں
فن کی دہلیز پہ جلتا ہوں چراغوں کی طرح
وائے قسمت میرے آنگن میں اجالا بھی نہیں
سر جھکائے ہوئے ملتے ہیں حوادث مجھ سے
میرے ہاتھوں میں کوئی پھول کی مالا بھی نہیں
شاعری وائری یہ طاق پہ اب رکھ دے وصی
تیرے شعروں کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں
📖 Summary

یہ فکر انگیز کلام شاہد وصی کے داخلی کرب، تنہائی اور معاشرتی بے اعتنائی کا آئینہ دار ہے۔ شاعر اپنے آپ کو ایک ایسے انسان کے طور پر پیش کرتا ہے جو نہ دوسروں کو مشکل میں ڈالتا ہے اور نہ ہی اپنی مشکلات کا اظہار کرتا ہے، بلکہ خاموشی سے سب کچھ سہتا ہے۔

اشعار میں خودداری، فلسفیانہ سوچ اور محرومی کا گہرا احساس نمایاں ہے۔ شاعر کو لوگ سقراط سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں اس کے پاس نہ کوئی زہر کا پیالہ ہے اور نہ ہی کوئی ڈرامائی انجام—یعنی اس کی جدوجہد خاموش اور اندرونی ہے۔ وہ فن کی دہلیز پر چراغ کی طرح جلتا ہ

← Previous Next →

✍️ شاہد وصیؔ — Short Introduction

شاہد وصیؔ
📍 مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش ، ہندوستان

محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by شاہد وصیؔ
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے نگاہِ ناز نے ایسا اثر کیا دل ...
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ پہ ہ...
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں تم سے ملے تو زیست کے نقشے بد...
نغمہِ بربطِ نوا چپ ہے عکس بےزار آئینہ چپ ہے شوخئِ حرفِ ماجرا چپ ہے لفظ خاموش مدعا چپ ہے رہ گزر ہے کہ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online