دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں
یہ دلکش اور فکری غزل شاہد وصی کے رومان، شعور اور خوداعتمادی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ شاعر نے ابتدا ہی میں خواب اور حقیقت کے تضاد کو نمایاں کیا ہے—ایک ایسی ملاقات جو خواب میں ہوئی مگر اس کا اثر جاگتی زندگی پر آج تک قائم ہے۔
محبوب سے ملنے کے بعد زندگی کا زاویہ بدل جانا، غموں کا شعر و شباب میں ڈھل جانا، اس بات کی علامت ہے کہ محبت انسان کے دکھوں کو بھی حسن میں بدل دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شاعر نصیحت کرتا ہے کہ سوچ کا معیار بلند ہونا چاہیے تاکہ انسان اچھے اور برے میں فرق کر سکے۔
درمیانی اشعار
✍️ شاہد وصیؔ — संक्षिप्त परिचय
محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!