اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں

شاہد وصیؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 63 ❤️ 1
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں
اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں
تم سے ملے تو زیست کے نقشے بدل گئے
-غم زندگی کے ڈھل گئے شعر و شباب میں-
معیار اپنی سوچ کا کچھ اور کر بلند
تھوڑی تمیز چاہئے اچھے خراب میں
آلامِ روزگار کی فہرست ہے طویل
ہر شخص مبتلا ہے دکھوں کے عذاب میں
ساقی تری نگاہ میں جتنا سرور ہے
نشہ وہ دستیاب نہیں ہے شراب میں
آندھی ہوں، کوئی میل کا پتھر نہیں وصی
منزل کو رکھ کے چلتا ہوں اپنی رکاب میں
📖 Summary

یہ دلکش اور فکری غزل شاہد وصی کے رومان، شعور اور خوداعتمادی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ شاعر نے ابتدا ہی میں خواب اور حقیقت کے تضاد کو نمایاں کیا ہے—ایک ایسی ملاقات جو خواب میں ہوئی مگر اس کا اثر جاگتی زندگی پر آج تک قائم ہے۔

محبوب سے ملنے کے بعد زندگی کا زاویہ بدل جانا، غموں کا شعر و شباب میں ڈھل جانا، اس بات کی علامت ہے کہ محبت انسان کے دکھوں کو بھی حسن میں بدل دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شاعر نصیحت کرتا ہے کہ سوچ کا معیار بلند ہونا چاہیے تاکہ انسان اچھے اور برے میں فرق کر سکے۔

درمیانی اشعار

← Previous Next →

✍️ شاہد وصیؔ — Short Introduction

شاہد وصیؔ
📍 مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش ، ہندوستان

محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by شاہد وصیؔ
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے نگاہِ ناز نے ایسا اثر کیا دل ...
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ پہ ہ...
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں تم سے ملے تو زیست کے نقشے بد...
نغمہِ بربطِ نوا چپ ہے عکس بےزار آئینہ چپ ہے شوخئِ حرفِ ماجرا چپ ہے لفظ خاموش مدعا چپ ہے رہ گزر ہے کہ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online