غزل
عمر بھر قیدِ با مشقت تھی
منتظم عاصیؔ
پیر، 20 اپریل 2026
👁 41
❤️ 1
درمیاں کس قدر محبت تھی
جب ہماری زباں میں لکنت تھی
روز کرتی تھی جو پسِ چلمن
اُن اشاروں میں کس کی طاعت تھی
شربتی آنکھیں زلفِ شَب گُوں کی
شوخ طَبعی عجب نزاکت تھی
جب ملے پھر سے صرف اتنا کہا
وہ بچھڑنے کی شب قیامت تھی
خامہ فرسائی کے زمانے میں
کس قدر عشق میں صداقت تھی
روح پرواز کر گئی پھر بھی
منتظر تیری، میری چاہت تھی
بات دل میں دبی ہوئی تھی جو
وہ بتانے کی کیا ضرورت تھی
بنتِ حوا نے بولی چھو کے قمر
جب تلک گھر میں تھی تو عزت تھی
تیرے کوچے میں بولنے کی سزا
عمر بھر قیدِ با مشقت تھی
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
منتظم عاصیؔ کی مزید
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!