آجا، تورا رستہ تاکے کھیتن کی پگڈنڈی
یہ دلکش اور لوک رنگ میں ڈوبی ہوئی کجری منتظم عاصیؔ مالیگاؤں کی فطرت نگاری، دیہی تہذیب اور جذباتی کیفیت کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے ساون، پگڈنڈی، جھولے، مور، پپیہا، بارش اور کھیتوں کے مناظر کو نہایت جاندار اور موسیقیت سے بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔ پوری کجری میں محبوب کی جدائی، انتظار اور دیہی زندگی کی سادگی ایک ساتھ چلتی دکھائی دیتی ہے۔ “آجا، تورا رستہ تاکے کھیتن کی پگڈنڈی” جیسا مصرع محبوب کے انتظار اور دیہاتی محبت کی معصومیت کو نمایاں کرتا ہے۔ بارش کی خوشبو، جھولوں کی مستی، پرندوں کی چہچہاہٹ
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!