اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے

علیم طاہرؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 192 ❤️ 4
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے
جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے
مرے وجود سے کیسے تجھے نکالوں میں
ترا وجود تو میری ہر ایک نس میں ہے
ترا شہود مری دھڑکنوں سے وابستہ
تری نمود بھی میری ہر ایک نس میں ہے
تڑپ رہی ہیں ہمہ وقت مقید سانسیں
ہر ایک لمحہ تمناؤں کے قفس میں ہے
بغیر دل کے کوئی نقش ابھرتا ہی نہیں
نظر نظر کا نظارا دلوں کے بس میں ہے
یہ مشورہ ہے کہ دنیا کی آرزو نہ کر
نہ تیرے بس میں ہے دنیا نہ میرے بس میں ہے
وہ نغمگی جو بکھرتی ہے تیرے لہجے سے
مرے جنوں کی سماعت اسی کے رس میں ہے
جس انقلاب کو صدیوں کا انتظار رہا
وہ انقلاب بھی طاہر قلم کے بس میں ہے
← Previous Next →
More by علیم طاہرؔ
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے کیسے...
تھلاپتی وجے: فلمی دنیا سے عوامی قیادت تک ایک غیر معمولی سفر __________ سپر اسٹار سے سیاسی رہنما تک —...
مصنف: علیم طاہر --- فہرستِ مضامین: 1. پیش لفظ 2. افسانچہ کیا ہے؟ (تعریف و اہمیت) 3. افسانچے کی ابتدا...
"عورت کچے کان کی" معروف ادیب علیم طاہرؔ کی ایک فکر انگیز تحریر ہے جو معاشرے میں عورت کے کر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online