اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

غزل

ہاشم منگل، 12 مئی 2026
👁 47 ❤️ 3
یک و تنہا ہی چلا آندھی کو رسوا کر کے
حوصلے دیکھ زرا آج تو میرے پر کے
چند سکوں کے عوض لذتِ دنیا چر کے
کیوں چلے آئے ہو خودّاری کا سودا کر کے
بیچ چوراہے پہ لانا ہو جو جھگڑے گھر کے
"دیکھ اک روز کسی اور کا پانی بھر کے"
جب سے بڑھنے لگے زلفوں کے تمہارے خرچے
بال جھڑنے لگے محبوب ہمارے سر کے
میرِ محفل تری اوقات پتا ہے سب کو
لاکھ تعریف کریں لوگ تری ڈر ڈر کے
تو جو اک بار محبت سے اشارہ کردے
لوٹ آؤں تری چوکھٹ پہ جوانی دھر کے
لگ گئی کس کی نظر قوم کو میری ہاشمؔ
اب بنا جھگڑے کے ہوتے نہیں حصے تر کے
ہاشم انور ہاشم
← Previous Next →
More by ہاشم
ذکرِ صلّیِ اعلیٰ مصطفیٰ مصطفیٰؐ دردِ دل کی دوا مصطفیٰ مصطفیٰؐ دھیرے دھیرے سے آنکھوں کو کھولے علیؑ کہ...
راہِ الفت میں یوں نکلتا ہوں روز بنتا ہوں اور بکھرتا ہوں حادثے مجھ سے دور رہتے ہیں لےکے ماں کی دعا نک...
ربِ حق ہوتے ہوئے، میں نہ تَو، تُو دیکھا ہے ہم کے احساس کو خود کرتے وضو دیکھا ہے کہیں کٹتا ہوا الفت ک...
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں "اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں" ایسا کوئی نہیں ہے محفل میں جس کو ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online