احمد اور بارش
برسات کا موسم تھا۔ احمد صبح سکول جانے کے لیے تیار ہوا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ ماں نے کہا: "بیٹا چھتری لے جاؤ، بارش ہو سکتی ہے۔"
احمد نے کہا: "ماں بارش نہیں ہو گی" اور چھتری چھوڑ کر چلا گیا۔
سکول سے واپسی پر زور کی بارش شروع ہو گئی۔ احمد بھیگ گیا۔ اس کی کتابیں بھی گیلی ہو گئیں۔
گھر آ کر اس نے ماں سے معافی مانگی اور کہا: "ماں، آپ صحیح کہتی تھیں۔ بڑوں کی بات ماننی چاہیے۔"
ماں نے پیار سے احمد کے بال پونچھے اور گرم چائے پلائی۔ احمد نے وعدہ کیا کہ آگے سے وہ ماں کی بات ضرور مانے گا۔
سبق: بڑوں کی بات ماننی چاہیے، ان کا تجربہ ہمارے کام آتا ہے۔
یہ کہانی احمد کی ہے جو برسات کے موسم میں سکول جاتے وقت اپنی ماں کی نصیحت پر عمل نہ کر سکا۔ ماں نے اسے بارش کے امکان کے باعث چھتری ساتھ لے جانے کا مشورہ دیا، لیکن احمد نے اس بات کو اہمیت نہ دی۔ واپسی پر شدید بارش ہوئی اور وہ خود بھیگ گیا جبکہ اس کی کتابیں بھی خراب ہو گئیں۔ گھر پہنچ کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے ماں سے معافی مانگی۔ ماں نے محبت سے اس کی دیکھ بھال کی اور احمد نے آئندہ بڑوں کی بات ماننے کا وعدہ کیا۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ والدین اور بزرگوں کی نصیحت ان کے تجربے کا نتیجہ
✍️ Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari — Short Introduction
## Shakhsiyat, Adabi Safar aur Shayari Khidmaat
Muntazim Aasi ka shumaar un ahl-e-qalam mein hota hai jinhon ne sher-o-adab ki duniya mein kisi baqaida adabi idare ya rasmi tarbiyati silsile ke sahare ke bajaye apne shauq, mutalea, musalsal mashq, asatiza ki rehnumai aur ghair mamooli junoon-e-sukhan ke zariye apna raasta banaya. Unka adabi safar mahaz shayari tak mehdood nahin balki yeh ek aise …




No comments yet — be the first!