اُمم اور چیونٹی
اُمم ایک پیاری اور ذہین لڑکی تھی۔ ایک گرمی کے دن وہ باغ میں کھیل رہی تھی۔ اچانک اس نے زمین پر چیونٹیوں کی ایک قطار دیکھی۔
چیونٹیاں ایک ایک دانہ اٹھا کر اپنے گھر کی طرف لے جا رہی تھیں۔ اُمم نے غور سے دیکھا — وہ بہت محنت کر رہی تھیں۔ ایک چیونٹی نے اپنے سے بڑا دانہ اٹھایا ہوا تھا۔ وہ گری، پھر اٹھی، پھر گری، پھر اٹھی — لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔
اُمم نے ماں کو بلایا اور کہا: "ماں دیکھو، یہ چیونٹی کتنی محنتی ہے!"
ماں نے مسکرا کر کہا: "بیٹا، چیونٹی سے سبق سیکھو۔ چھوٹی سی ہے لیکن کبھی ہار نہیں مانتی۔ محنت اور لگن سے سب کچھ ممکن ہے۔"
اُمم نے اس دن سے ٹھان لیا کہ وہ بھی چیونٹی کی طرح محنتی بنے گی۔ جب بھی سکول میں کوئی مشکل سوال آتا، وہ چیونٹی کو یاد کرتی اور کوشش کرتی رہتی۔
سبق: محنت اور لگن سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔
یہ کہانی اُمم نامی ایک ذہین اور سمجھدار بچی کی ہے جس نے ایک دن باغ میں چیونٹیوں کو محنت کرتے دیکھا۔ چیونٹیاں مسلسل اپنے لیے دانے جمع کر رہی تھیں۔ اُمم نے ایک چیونٹی کو دیکھا جو اپنے سے بڑا دانہ اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ بار بار گرتی لیکن ہر بار دوبارہ اٹھ کر اپنی منزل کی طرف بڑھتی رہی۔ اُمم کی ماں نے اسے بتایا کہ چیونٹی ہمیں محنت، صبر اور ثابت قدمی کا سبق دیتی ہے۔ اس واقعے نے اُمم کو بہت متاثر کیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی زندگی میں مشکلات سے گھبرانے کے بجائے مسلسل محنت کرے گی۔ بعد میں ج
✍️ Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari — Short Introduction
## Shakhsiyat, Adabi Safar aur Shayari Khidmaat
Muntazim Aasi ka shumaar un ahl-e-qalam mein hota hai jinhon ne sher-o-adab ki duniya mein kisi baqaida adabi idare ya rasmi tarbiyati silsile ke sahare ke bajaye apne shauq, mutalea, musalsal mashq, asatiza ki rehnumai aur ghair mamooli junoon-e-sukhan ke zariye apna raasta banaya. Unka adabi safar mahaz shayari tak mehdood nahin balki yeh ek aise …




No comments yet — be the first!