اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
نثری نظم

کوکھ

کوکھ
ارم رحمٰن
ارم رحمٰن پیر، 25 مئی 2026
👁 41 ❤️ 0

اندھیرے کی کوکھ نے
جنما ہے
ان گنت مہیب خیالوں کو
کتنے مبہم جوابوں کو
کتنے مشکل سوالوں کو
کہ
اس تاریکی نے
روح کے اندر رہنے کا
فیصلہ کر رکھا تھا
رگوں کے خون
اور
آنکھوں کے اشک میں
فاصلہ کر رکھا تھا
کتنا بوجھل تھا
اتنے سمے تک
دکھوں کو سنبھالے رکھنا
اپنی روح کی کوکھ میں
خاموشی کو پالے رکھنا
اور اب
اگل ڈالا ہے اچانک
اک اک زخم کو
کرچی کرچی وجود کے
ہر پیچ و خم کو
جگر سے رستے لہو کو
۔۔۔۔۔اشک نم کو
ازل سے
روحوں کا مسافر ہے
کسی اجڑے وجود کا
معاصر ہے
ڈھونڈتا ہے
دلفریب لمحوں کو
کسی
پر شکوہ پلوں کو
جنم دیتا ہے پھر
چپکے چپکے
ان اشکالوں کو
ان جوابوں کو
جو بھسم کردیتا ہے
ہر خوشی
سب اجالوں کو
کیونکہ
اندھیرے کی کوکھ نے
جنما ہے سدا
ان گنت مہیب
خیالوں کو

📖 सार

یہ نظم انسانی باطن میں چھپے اندھیرے، کرب اور پیچیدہ نفسیاتی کیفیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے “اندھیرے کی کوکھ” کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا ہے، جو ان خوفناک خیالات، الجھے سوالات اور مبہم جوابوں کو جنم دیتی ہے جو انسان کے اندر پلتے رہتے ہیں۔

یہ تاریکی صرف بیرونی نہیں بلکہ روح کے اندر بسی ہوئی ہے، جو خون اور آنسو کے درمیان ایک فاصلہ قائم کر دیتی ہے—یعنی احساسات اور اظہار کے درمیان ایک رکاوٹ۔ انسان طویل عرصے تک اپنے دکھوں اور خاموشی کو اپنے اندر پالے رکھتا ہے، یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب

✍️ ارم رحمٰن — संक्षिप्त परिचय

ارم رحمٰن
📍 لاہور، پاکستان

ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …

और पढ़ें ←
ارم رحمٰن کی مزید تحریریں
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خراما...
مزید متعلقہ نثر
رسیا
دو بین کرتی آنکھیں دو بے چین ہوتی آنکھیں اپنی غربت کا تماشہ بننے ہر ہوس زدہ لوگو...
لطیفہ
لطیفہ ہی تو ہے یہ زندگی ہاں دیکھو تو ایک لطیف سا احساس سوچو تو محض مرنے پر قیاس ...
گود کے لیے ترستی کویتا
ہرکویتا کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے جیسے تمہاری پالتو بلی تمہاری گود کا لمس لی...
زعفرانی، سفید، ہرا
میں نے جب پہلی بار اپنے اسکول کی چھت پر لہراتا ہوا ترنگا دیکھا تھا تو مجھے صرف ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन