علیم طاہرؔ کا افسانچہ "گھڑی" | باپ کے لیے مہنگی گھڑی اور وقت کا سوال
بیٹا اپنے باپ کیلئے مہنگی گھڑی لایا۔
باپ نے خوش ہوکر پوچھا:
"وقت بھی دو گے؟"
بیٹا مسکرا نہ سکا۔
افسانچہ "گھڑی" ایک باپ اور بیٹے کے درمیان موجود محبت، وقت کی کمی اور رشتوں کی اصل ضرورت کو نہایت مختصر مگر مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ بیٹا باپ کے لیے مہنگی گھڑی لاتا ہے، لیکن باپ کا سوال "وقت بھی دو گے؟" تحفے کی مادی قیمت سے زیادہ جذباتی وقت کی اہمیت سامنے لے آتا ہے۔ بیٹے کا مسکرا نہ سکنا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شاید وہ باپ کو قیمتی چیز تو دے سکتا ہے، مگر اپنا وقت دینے سے محروم ہے۔
اس افسانچے کا مرکزی خیال والدین کے لیے مادی تحفوں سے زیادہ وقت اور محبت کی اہمیت ہے۔ باپ کی خواہش مہنگی گھڑی نہیں بلکہ بیٹے کی قربت اور اس کے ساتھ گزا…
اس افسانچے کا مرکزی خیال والدین کے لیے مادی تحفوں سے زیادہ وقت اور محبت کی اہمیت ہے۔ باپ کی خواہش مہنگی گھڑی نہیں بلکہ بیٹے کی قربت اور اس کے ساتھ گزارا ہوا وقت ہے۔ بیٹے کا مسکرا نہ سکنا اس احساسِ جرم اور حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے کہ وقت شاید اس کے پاس نہیں۔
"گھڑی" ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جس میں روزمرہ زندگی کی ایک معمولی سی صورتِ حال کو گہری جذباتی معنویت دی گئی ہے۔ گھڑی یہاں صرف وقت ب…
"گھڑی" ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جس میں روزمرہ زندگی کی ایک معمولی سی صورتِ حال کو گہری جذباتی معنویت دی گئی ہے۔ گھڑی یہاں صرف وقت بتانے والی چیز نہیں بلکہ وقت کی علامت بن جاتی ہے۔ باپ کا مختصر سوال پوری کہانی کے مفہوم کو اچانک وسیع کر دیتا ہے۔
افسانچے کی قوت اس کے اختصار اور آخری جملے میں پوشیدہ ہے۔ باپ کا سوال بظاہر سادہ ہے، مگر بیٹے کی خاموش کیفیت اسے ایک گہرے اخلاقی سوال میں بدل دیتی ہے۔ …
افسانچے کی قوت اس کے اختصار اور آخری جملے میں پوشیدہ ہے۔ باپ کا سوال بظاہر سادہ ہے، مگر بیٹے کی خاموش کیفیت اسے ایک گہرے اخلاقی سوال میں بدل دیتی ہے۔ تحریر قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے والدین کو اشیا تو دے دیتے ہیں، مگر کیا انہیں اپنا وقت بھی دیتے ہیں؟
اختصار، مکالمے کی برجستگی، علامتی عنوان، جذباتی تضاد، کرداروں کی مختصر مگر واضح تشکیل اور آخری جملے میں معنوی گہرائی اس افسانچے کے نمایاں فنی محاسن ہی…
اختصار، مکالمے کی برجستگی، علامتی عنوان، جذباتی تضاد، کرداروں کی مختصر مگر واضح تشکیل اور آخری جملے میں معنوی گہرائی اس افسانچے کے نمایاں فنی محاسن ہیں۔
"گھڑی" وقت، زندگی اور گزرے ہوئے لمحوں کی علامت ہے۔ "مہنگا تحفہ" مادی محبت کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ "وقت" خلوص، قربت اور…
"گھڑی" وقت، زندگی اور گزرے ہوئے لمحوں کی علامت ہے۔ "مہنگا تحفہ" مادی محبت کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ "وقت" خلوص، قربت اور حقیقی محبت کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ بیٹے کا نہ مسکرانا اندرونی احساس اور خاموش شرمندگی کی علامت ہے۔
اس افسانچے میں براہِ راست تشبیہ کے بجائے علامتی اور معنوی اظہار زیادہ نمایاں ہے۔ "گھڑی" وقت کی قدر کا استعارہ بن جاتی ہے، جبکہ "وقت بھی…
اس افسانچے میں براہِ راست تشبیہ کے بجائے علامتی اور معنوی اظہار زیادہ نمایاں ہے۔ "گھڑی" وقت کی قدر کا استعارہ بن جاتی ہے، جبکہ "وقت بھی دو گے؟" ایک ایسا سوال ہے جو ظاہری تحفے کے مقابل حقیقی محبت کی قدر کو نمایاں کرتا ہے۔
علیم طاہرؔ نے اس افسانچے میں جدید مصروف زندگی میں والدین کے ساتھ کم ہوتے وقت کو موضوع بنایا ہے۔ مصنف کا فکری زاویہ یہ ہے کہ رشتوں کی اصل مضبوطی مہنگی …
علیم طاہرؔ نے اس افسانچے میں جدید مصروف زندگی میں والدین کے ساتھ کم ہوتے وقت کو موضوع بنایا ہے۔ مصنف کا فکری زاویہ یہ ہے کہ رشتوں کی اصل مضبوطی مہنگی اشیا سے نہیں بلکہ توجہ، قربت اور وقت دینے سے قائم رہتی ہے۔
آج کے مصروف دور میں اولاد اپنے والدین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تحائف اور سہولتیں تو فراہم کر دیتی ہے، مگر ان کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کا وقت کم …
آج کے مصروف دور میں اولاد اپنے والدین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تحائف اور سہولتیں تو فراہم کر دیتی ہے، مگر ان کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے "گھڑی" کا پیغام موجودہ دور میں خاص طور پر اہم ہے کہ والدین کو صرف چیزیں نہیں، اپنا وقت بھی دینا چاہیے۔




No comments yet — be the first!