نوحہ
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے
اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں
کوئی ملتا بھی نہیں جس سے پتہ دریافت کروں
ہر چیز ہر جگہ صبح و شام دن رات پیڑ پودے زمین آسمان چاند سورج ستارے ہوا پانی پہاڑ دریا ندی سمندر غنچے گل کلی چرند پرند ہوتے ہوئے بھی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے گلشن ہی زندان ہے ہر طرف اک سکوت ہے سناٹا ہے مگر راحت سکون تنہائی کہیں نہیں ہے اکیلا ہوکر بھی میں اکیلا نہیں میری فکر میرے تخیلات میرے خواب مجھے زندگی کی گہماگہمی میں رکھے ہوئے ہیں
میں بہت کوشش کرتا ہوں پر اس سے رِہا نہیں ہوتا
میں بہت سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں
کہ یہ سب کیا، ہے کیوں ہے
مگر میری عقل اس فکر کی دیوار پار نہیں کرتی
اور اپنی اس بے بسی پر اشک بہاتی ہوئی
پھر تنہائی کی تلاش کرنے لگتی ہے
اس امید پر کہ شاید کوئی مل جائے
جو تنہائی کا پتہ بتا دے
اسی فکر میں، ڈوبا ہوا ادھر ادھر پھر رہا ہوں
کبھی کہیں تو میری ملاقات تنہائی سے ہوگی
اور پھر میں تنہائی میں بیٹھ کر
اپنی زندگی کا نوحہ لکھوں گا
✍️ मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी — संक्षिप्त परिचय
### मुंतज़िम आसी — एक तफ़सीली अदबी तआरुफ़
मुंतज़िम आसी उर्दू अदब की दुनिया में एक ऐसे शख़्स के तौर पर सामने आते हैं जिनकी अदबी ज़िंदगी में शायरी, रूहानियत, मुतालआ, इल्म-ए-अरूज़ और अदबी ख़िदमत एक-दूसरे से जुड़ी हुई नज़र आती हैं। उनकी शख़्सियत का सबसे अहम पहलू यह है कि उन्होंने शायरी को महज़ शौक़ नहीं बल्कि एक लगातार जारी रहने वाले जुनून और ज़िम्मेदारी के तौर पर अपनाया।
उनका अदबी सफ़र किसी एक दिन …




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!