اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
نثری نظم

گود کے لیے ترستی کویتا

گود کے لیے ترستی کویتا
احمد نعیم
احمد نعیم جمعرات، 21 مئی 2026
👁 139 ❤️ 1

ہرکویتا
کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے
جیسے تمہاری پالتو بلی
تمہاری گود
کا لمس لیتی ہے
ویسے ہی
وہ بھی
کسی کی گرم
گود میں سر رکھ کر
ایک کویتا
سنانا
چاہتا ہے
شبد بھی
بہت دیر بھٹکنے کے بعد
کسی اپنے کے نرم لمس کی تلاش کرتے ہیں. شبد چاہتے ہیں
کوئی انہیں
اپنی دھڑکن کے قریب جگہ دے
کوئی ان کے ماتھے پر
محبت کا ہاتھ رکھے
اور وہ
سر رکھ کر
آہستہ سے
ایک کویتا سنا سکیں
جس میں ____!
بارش کی نمی ہو
تنہائی کی ہلکی آنچ ہو
اور انسان کے اندر
بچی ہوئی روشنی کی خوشبو ہو
تاکہ سنسار کی
تمام کویتاؤں کو
وہ
خراجِ تحسین پیش کر سکے۔
اور دنیا
کچھ دیر کے لیے
ایک پرسکون گود میں
سو جائے۔

📖 सार

ہر کویتا کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے | محبت، شاعری اور لفظوں کی دنیا
یہ خوبصورت نظم انسانی محبت، قربت اور لفظوں کی داخلی دنیا کی ایک لطیف تعبیر ہے۔ شاعر نے کویتا (نظم) اور شبد (الفاظ) کو انسانی احساسات کی طرح پیش کیا ہے جو کسی اپنے کی گرم آغوش، محبت بھرے لمس اور دل کی قربت کے متلاشی ہیں۔ نظم یہ پیغام دیتی ہے کہ شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ محبت، تنہائی، امید اور انسانیت کی باقی ماندہ روشنی کا اظہار ہے۔ شاعر ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتا ہے جہاں محبت، سکون اور احساس کی گود میں تھکے ہوئے

مزید متعلقہ نثر
جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے، جنون قتل کر کے افسوس کرتا، جنون ہی رموزِ قلب سے ...
زبان — تہذیب کی روشن پہچان | منتظم عاصیؔ
زبان محض لفظوں کا مجموعہ نہیں، یہ دلوں کے درمیان ایک روشن پُل ہے۔ ماں کی لوری سے...
میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی میرے آنسوؤں کے قلم سے میری روح سنگ مرمر کی مانند سرد ا...
زعفرانی، سفید، ہرا
میں نے جب پہلی بار اپنے اسکول کی چھت پر لہراتا ہوا ترنگا دیکھا تھا تو مجھے صرف ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन