بنا عنوان نثر ایک ایک سطر میں
زندگی ایک دریا ہے جو کبھی ٹھہرتا نہیں، ہم بس اس کے بہاؤ میں بہتے چلے جاتے ہیں۔
ہر مسکراہٹ کے پیچھے کوئی نہ کوئی ادھوری کہانی ضرور چھپی ہوتی ہے۔
وقت خاموشی سے سب کچھ بدل دیتا ہے، انسان صرف حیرت سے دیکھتا رہ جاتا ہے۔
خواب وہ سچ ہیں جو آنکھیں بند ہونے کے بعد زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔
کچھ لوگ کتابوں میں نہیں، یادوں میں پڑھے جاتے ہیں اور ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔
خاموشی کبھی کبھی سب سے اونچی چیخ بن جاتی ہے مگر سنائی نہیں دیتی۔
انسان کی اصل پہچان اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کے اعمال ہوتے ہیں۔
امید وہ چراغ ہے جو اندھیرے میں بھی جلنے کا ہنر رکھتا ہے۔
دل کی دنیا عجیب ہوتی ہے، یہاں منطق نہیں صرف احساس بولتا ہے۔
ہر رشتہ وقت کے ساتھ نہیں بدلتا، کچھ رشتے وقت کے باوجود بھی زندہ رہتے ہیں۔
تنہائی میں انسان خود سے زیادہ سچ بولنے لگتا ہے۔
زندگی ہمیں وہی سبق بار بار سکھاتی ہے جو ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔
✍️ Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari — Short Introduction
## Shakhsiyat, Adabi Safar aur Shayari Khidmaat
Muntazim Aasi ka shumaar un ahl-e-qalam mein hota hai jinhon ne sher-o-adab ki duniya mein kisi baqaida adabi idare ya rasmi tarbiyati silsile ke sahare ke bajaye apne shauq, mutalea, musalsal mashq, asatiza ki rehnumai aur ghair mamooli junoon-e-sukhan ke zariye apna raasta banaya. Unka adabi safar mahaz shayari tak mehdood nahin balki yeh ek aise …




No comments yet — be the first!