انتظار، بارش
بارش ہورہی تھی گھر میں بیٹھا بارش بند ہونے کا انتظار کر رہا تھا مجھے کہیں کام سے ارجنٹ جانا تھا پر بارش نے مجھے روکے رکھا تھا میرا ذہن منتشر تھا کبھی کہتا بھیگتے ہوئے چلا جاؤں کبھی کہتا تھوڑا انتظار کر لوں اسی کشمکش میں وقت کو گزارنا بھی مشکل تھا میں نے اپنا موبائل لیا اس میں کچھ میسج تھے اسے پڑھنے لگا جہاں جواب دینے کی ضرورت تھی وہاں جواب دے رہا تھا کچھ ہی منٹوں میں یہ بھی ختم ہوگیا پھر میں نے موبائل کو پاس میں رکھ دیا سگریٹ نکال کر جلائی ایک دو کش کے ساتھ ذہن نے میری قلم کے دروازے پر دستک دیا قلم نے دروازہ کھول کر جو دیکھتی ہے اسے تحریر کرتی ہے اور وہ یہ تھا
کہیں پر رات قابض ہے کہیں قابض سویرا ہے
کہیں تارے کہیں سورج کہیں پر چاند ٹھہرا ہے
✍️ मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी — संक्षिप्त परिचय
### मुंतज़िम आसी — एक तफ़सीली अदबी तआरुफ़
मुंतज़िम आसी उर्दू अदब की दुनिया में एक ऐसे शख़्स के तौर पर सामने आते हैं जिनकी अदबी ज़िंदगी में शायरी, रूहानियत, मुतालआ, इल्म-ए-अरूज़ और अदबी ख़िदमत एक-दूसरे से जुड़ी हुई नज़र आती हैं। उनकी शख़्सियत का सबसे अहम पहलू यह है कि उन्होंने शायरी को महज़ शौक़ नहीं बल्कि एक लगातार जारी रहने वाले जुनून और ज़िम्मेदारी के तौर पर अपनाया।
उनका अदबी सफ़र किसी एक दिन …




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!