اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में

عبدالدیان اسدؔ

(عبدالدیان اسدؔ)
📖 دیوان دیکھیں
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان 🎂 ہفتہ، 2 مئی 1970
20
کلام
42
پسند
987
مطالعہ
📜 شاعری (20) 📝 نثر (0) 📚 کتابیں (0)
نعت
محبوبِ کبریا نے مقدر جگا دیا
یثرب کو پاؤں رکھتے ہی طیبہ بنادیا
❤️ 3   👁 43
غزل
بزم کی ابتدا ہوئی ہے کیا
تیرے حق میں دعا ہوئی ہے کیا
❤️ 2   👁 41
غزل
جیسے خنجر کبھی تلوار نہیں ہو سکتا
ویسے تو صاحبِ کردار نہیں ہو سکتا
❤️ 1   👁 34
غزل
الفت وفا خلوص کا اچھا صلہ دیا
اہلِ خرد کو آپ نے جلوہ دکھا دیا
❤️ 1   👁 45
غزل
ہوگی تو کیسے ہو گی عنایت تمام شد
قرطاسِ دل پہ لکھی عبارت تمام شد
❤️ 1   👁 41
غزل
اپنی بربادی کی معذور کہانی بھر کے
پھونک مارے گا چلم باز جوانی بھر کے
❤️ 2   👁 52
منقبت
کیا خبر حریفِ دین کو کیا ہے احترام یا حسین
عرشِ پاک پر بھی ہے لکھا آپ کا مقام یا حسین
❤️ 1   👁 48
نعت
روضے کی دھول سر پہ لگانا بھی نعت ہے
روداد جاکے طیبہ سنانا بھی نعت ہے
❤️ 2   👁 52
غزل
بر سرِ عدل منافق تہیں دستک ہے نا
در پہ پھر شاہ کے دیں گے لعیں دستک ہے نا
❤️ 2   👁 39
غزل
شمع خود آپ محبت کی بجھاتے کیوں ہو
آگ نفرت کی زمانے میں لگاتے کیوں ہو
❤️ 2   👁 39
غزل
تعصب کی بکے عینک جہاں پر
محبت مل نہیں سکتی وہاں پر
❤️ 2   👁 41
غزل
ڈور تک ثابت نہیں اعصاب کی
کر رہے ہیں بات آب و تاب کی
❤️ 2   👁 40
غزل
پاگل نے اس کی دید کا جب دام لکھ دیا
گستاخِ حسن اس نے سرِ عام لکھ دیا
❤️ 3   👁 41
غزل
بادشاہت بھی گدائی بھی ہے اگوائی بھی
"عاشقی باعثِ عزت بھی ہے رسوائی بھی"
❤️ 3   👁 50
غزل
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی
جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی
❤️ 2   👁 69
غزل
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں
جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں
❤️ 5   👁 42
مرثیہ
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج
بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج
❤️ 3   👁 47
حمد
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے
چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے
❤️ 5   👁 139
غزل
رہوں بن کے تیرا میں لختِ جگر ماں
ہمیشہ رہے مجھ پہ تیری نظر ماں
❤️ 0   👁 48
غزل
میں نے سمجھ کے بوجھ کے برکھا غلط نہیں
جانا غلط، غلط کو ہے سوچا غلط نہیں
❤️ 0   👁 36
साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन