اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

सूफियाना गज़ल लेखक मुंतज़िम आसी | सत्य, प्रेम और आत्मा की सुरक्षा की कविता

मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी جمعرات، 15 اکتوبر 2026
👁 39 ❤️ 0
कुन अज़ल से अज़्म-ए-ला-महफ़ूज़ है,
यानी हक़ का काफ़िला महफ़ूज़ है।
मिट गए अह्ْل-ए-ख़िरद अह्ْل-ए-जफ़ा,
पर हमारा सिलसिला महफ़ूज़ है।
आने वाले आए आ कर गए,
इब्तिदा से इन्तिहा महफ़ूज़ है।
ताक़-ए-दिल में इक दिए को छोड़ कर,
बुझ गया सब कुछ मिरा! महफ़ूज़ है।
ग़र्क़ किश्ती हो गई लेकिन मिरा,
शुक्र रब का ना-ख़ुदा महफ़ूज़ है।
दस्त-बस्ता हैं खड़े सुलतान भी,
सिर्फ़ मेरी ही अना महफ़ूज़ है।
हो गया है सर कलंदर का बुलंद,
फिर भी आसीؔ हर जगह महफ़ूज़ है।
📖 सार

यह गज़ल हक (सत्य), इश्क और रूहानी तहफ्फुज (आत्मा की सुरक्षा) का एक बेहतरीन मूरक्का है। शायर अज़ल (शुरुआत) से लेकर ता-हयात तक इंसानी अज्म (संकल्प), रूहानी सफर और खुदा पर अटूट यकीन को बयान करता है। दुनिया के फेरबदल, हादसों और सांसारिक उथल-पुथल के बावजूद हक का रास्ता, सवालात और सिलसिले कभी खत्म नहीं होते। कश्ती डूबने के बावजूद ना-खुदा (रब) का सलामत रहना और तमाम मुश्किलों के दरमियान अना (आत्म-सम्मान) और कलंदर की बुलंदी का सफर इस गज़ल का मौजूई (थीम) खुलासा है।

📚 साहित्यिक समीक्षा

अदबी नुक्ते नज़र से यह गज़ल क्लासिकीय तसव्वुफ (सूफीवाद) और जदीद एहसास का हसीन संगम है। इसमें इब्तिदा और इंतिहा, अज़ल और अबद जैसे फलसफाना तराकीब को आसान…

अदबी नुक्ते नज़र से यह गज़ल क्लासिकीय तसव्वुफ (सूफीवाद) और जदीद एहसास का हसीन संगम है। इसमें इब्तिदा और इंतिहा, अज़ल और अबद जैसे फलसफाना तराकीब को आसान मगर पुर-असर अंदाज में पिरोया गया है। शेर की रौनक़, बहर का ठहराव और अल्फ़ाज़ की चयन क्षमता इसे एक आला दर्जे की शायरी बनाती है।

🖋️ आलोचनात्मक समीक्षा

तनक़ीदी ऐतबार से देखा जाए तो शायर ने समाज और तारीख की नकीब (पीठ) पर खड़े होकर एक बागी और पुर-एतमाद लहजा अपनाया है। "मट गए अह्ْل-ए-ख़िरद अह्ْل-ए-जफ़…

तनक़ीदी ऐतबार से देखा जाए तो शायर ने समाज और तारीख की नकीब (पीठ) पर खड़े होकर एक बागी और पुर-एतमाद लहजा अपनाया है। "मट गए अह्ْل-ए-ख़िरद अह्ْل-ए-जफ़ा" और "सिर्फ मेरी ही अना महफूज है" जैसे मिसरे तंज और फक्र दोनों का इजहार करते हैं। यह गज़ल ज़माने के तवेज्जो और खौफ के मुताले में इंसान की बातिनी (आंतरिक) आजादी की तस्दीक करती है।

✦ केंद्रीय विचार

इस गज़ल का मरकज़ी ख्याल यह है कि ظاہری (ज़ाहिरी) और दुनियावी नुकसान या तबाही इंसानी रूह और हक के रास्ते को शिकस्त नहीं दे सकती। इंसान का असल सरमाया उस…

इस गज़ल का मरकज़ी ख्याल यह है कि ظاہری (ज़ाहिरी) और दुनियावी नुकसान या तबाही इंसानी रूह और हक के रास्ते को शिकस्त नहीं दे सकती। इंसान का असल सरमाया उसका ईमान, उसकी अना और उसका रूहानी ताल्लुक है जो हर दौर के खौफ और साजिशों से महफूज रहता है।

✦ शेर-दर-शेर व्याख्या

صوفیانہ غزل از منتظم عاصیؔ — شعر بہ شعر تشریح

شعر نمبر 1
کن ازل سے عزمِ لا محفوظ ہے یعنی حق کا قافلہ محفوظ ہے
مشکل الفاظ
ازل: وہ زمانہ جس کی ابت…

صوفیانہ غزل از منتظم عاصیؔ — شعر بہ شعر تشریح

شعر نمبر 1

کن ازل سے عزمِ لا محفوظ ہے یعنی حق کا قافلہ محفوظ ہے

مشکل الفاظ

ازل: وہ زمانہ جس کی ابتدا نہ ہو؛ ہمیشہ سے۔
عزم: پختہ ارادہ۔
حق: سچائی، حقیقت یا خدا کی طرف منسوب صداقت۔
قافلہ: مسافروں کا گروہ؛ یہاں حق کے راستے پر چلنے والوں کی علامت۔

تشریح

اس شعر میں شاعر حق کے راستے کی پائیداری اور اس سے وابستہ عزم کو بیان کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ اس خیال کو واضح کرتا ہے کہ حق کا قافلہ محفوظ ہے، یعنی سچائی کی روایت اور اس پر قائم رہنے کا جذبہ مشکلات کے باوجود باقی رہ سکتا ہے۔
البتہ پہلے مصرعے میں ’’کن ازل سے عزمِ لا‘‘ کی ترکیب واضح نہیں۔ ممکن ہے یہاں کتابت کی غلطی ہو یا شاعر نے کوئی مخصوص اصطلاح استعمال کی ہو۔ اس لیے اس مصرعے کا قطعی مفہوم متعین کرنے کے لیے اصل عبارت کی تصدیق ضروری ہے۔

مرکزی مفہوم

حق سے وابستگی اور سچائی کے راستے پر قائم رہنے کا عزم زمانے کی تبدیلیوں کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے۔

شعر نمبر 2

مٹ گئے اہلِ خرد اہلِ جفا پر ہمارا سلسلہ محفوظ ہے

مشکل الفاظ

اہلِ خرد: عقل و دانش رکھنے والے لوگ۔
اہلِ جفا: ظلم، بے وفائی یا زیادتی کرنے والے لوگ۔
سلسلہ: تسلسل، روایت یا روحانی نسبت۔

تشریح

شاعر اس شعر میں زمانے کی بے ثباتی کو بیان کرتا ہے۔ اس کے مطابق بہت سے لوگ، خواہ عقل و دانش کے دعوے دار ہوں یا ظلم و جفا کرنے والے، وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں۔ لیکن شاعر کا اپنا سلسلہ محفوظ رہتا ہے۔
یہاں ’’سلسلہ‘‘ سے مراد روحانی سلسلہ، فکری روایت یا حق سے وابستہ کوئی تسلسل ہو سکتا ہے۔ شاعر اس کے ذریعے یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ افراد عارضی ہوتے ہیں، مگر کسی مضبوط نظریے، روحانی نسبت یا سچی روایت کا اثر ان کے بعد بھی باقی رہ سکتا ہے۔

مرکزی مفہوم

افراد اور زمانے بدل جاتے ہیں، لیکن حق سے وابستہ مضبوط روایت اپنا تسلسل برقرار رکھ سکتی ہے۔

شعر نمبر 3

آنے والے آئے آکر گئے ابتدا سے انتہا محفوظ ہے

مشکل الفاظ

ابتدا: آغاز۔
انتہا: انجام یا آخری حد۔
محفوظ: سلامت، برقرار یا ضائع ہونے سے بچا ہوا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر دنیا کی عارضی فطرت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لوگ آتے ہیں، اپنا وقت گزارتے ہیں اور پھر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ کسی فرد کی زندگی مستقل نہیں، لیکن شاعر ابتدا سے انتہا تک ایک ایسے تسلسل یا نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اپنی جگہ قائم ہے۔
صوفیانہ تناظر میں اسے زندگی کے تغیرات کے مقابلے میں کسی دائمی حقیقت کے تصور سے جوڑا جا سکتا ہے۔ انسان کی آمد و رفت کے باوجود حق، کائناتی نظام یا روحانی روایت کی بقا کا احساس اس شعر میں نمایاں ہے۔

مرکزی مفہوم

انسان اور اس کی زندگی عارضی ہیں، مگر شاعر کسی ایسی حقیقت یا تسلسل کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ابتدا سے انتہا تک قائم رہتا ہے۔

شعر نمبر 4

طاقِ دل میں اک دئے کو چھوڑ کر بجھ گیا سب کچھ مرا! محفوظ ہے

مشکل الفاظ

طاق: دیوار میں بنی ہوئی چھوٹی جگہ یا محراب نما خانہ۔
طاقِ دل: دل کے اندرونی گوشے کی علامتی تعبیر۔
دیا: چراغ؛ یہاں امید، ایمان یا باطنی روشنی کی علامت۔

تشریح

یہ شعر غزل کے اہم اور مؤثر اشعار میں سے ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی زندگی یا دنیا کی بہت سی روشنیاں بجھ چکی ہیں، لیکن دل کے طاق میں ایک دیا اب بھی روشن ہے۔ یہ دیا امید، ایمان، عشق یا کسی روحانی یقین کی علامت ہو سکتا ہے۔
’’بجھ گیا سب کچھ مرا‘‘ میں محرومی، تنہائی اور زندگی کے تلخ تجربات کا احساس ہے۔ اس کے مقابلے میں ’’ایک دئے‘‘ کا باقی رہنا بتاتا ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود شاعر کے اندر کوئی بنیادی روشنی ختم نہیں ہوئی۔ یہی چھوٹی سی روشنی اسے مکمل مایوسی سے بچاتی ہے۔
آخری الفاظ ’’محفوظ ہے‘‘ کو مفہوم کے لحاظ سے اس باقی رہ جانے والی روشنی سے جوڑا جا سکتا ہے، اگرچہ مصرعے کی نحوی ترتیب قدرے غیر معمولی ہے۔

مرکزی مفہوم

زندگی کی بیشتر خوشیاں اور روشنیاں ختم ہو جائیں، تب بھی دل میں امید یا ایمان کا ایک چراغ باقی رہ سکتا ہے۔

شعر نمبر 5

غرق کشتی ہوگئی لیکن مرا شکر رب کا نا خدا محفوظ ہے

مشکل الفاظ

غرق: ڈوب جانا۔
کشتی: یہاں زندگی یا سفر کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
ناخدا: کشتی چلانے والا؛ مجازاً رہنما یا سہارا۔
شکرِ رب: اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک ڈوبتی ہوئی کشتی کا منظر پیش کرتا ہے۔ کشتی کا غرق ہونا کسی بڑی آزمائش، نقصان یا ناکامی کی علامت ہو سکتا ہے، لیکن اس مشکل کے باوجود شاعر شکر ادا کرتا ہے کہ ناخدا محفوظ ہے۔
ناخدا کو حقیقی معنی میں کشتی چلانے والا سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ علامتی طور پر وہ ایسے رہنما یا سہارے کی نمائندگی کرتا ہے جس پر مشکل وقت میں اعتماد کیا جاتا ہے۔ شاعر کی توجہ کشتی کے نقصان سے ہٹ کر اس شخصیت یا قوت کی سلامتی پر ہے جو دوبارہ راستہ دکھانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس شعر میں شکرگزاری کا جذبہ بھی نمایاں ہے: ہر چیز کے ختم ہو جانے کو مکمل تباہی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات کسی ایک اہم سہارے کا باقی رہنا نئی امید پیدا کرتا ہے۔

مرکزی مفہوم

بڑی آزمائش اور نقصان کے باوجود اگر رہنمائی کرنے والا سہارا باقی ہو تو امید اور دوبارہ سنبھلنے کا امکان موجود رہتا ہے۔

شعر نمبر 6

دست بستہ ہیں کھڑے سلطان بھی صرف میری ہی انا محفوظ ہے

مشکل الفاظ

دست بستہ: ہاتھ باندھے ہوئے؛ مؤدبانہ انداز میں کھڑا ہونا۔
سلطان: بادشاہ یا صاحبِ اقتدار۔
انا: اپنی ذات کا احساس؛ خودداری یا خودبینی، سیاق کے مطابق۔

تشریح

اس شعر میں شاعر سلطان جیسے بااختیار شخص کو بھی دست بستہ کھڑا دکھاتا ہے۔ اس منظر سے اقتدار کی محدودیت اور شاعر کی اپنی ذات کے احساس کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ کہتا ہے کہ سب کچھ بدلنے کے باوجود اس کی انا محفوظ ہے۔
یہاں ’’انا‘‘ کے دو ممکنہ مفہوم ہیں۔ اگر اسے مثبت معنی میں لیا جائے تو اس سے مراد خودداری، عزتِ نفس اور اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہے۔ لیکن اگر اسے منفی معنی میں سمجھا جائے تو یہ خودبینی یا غرور کی طرف بھی اشارہ کر سکتی ہے۔ غزل کے صوفیانہ پس منظر میں اس فرق کو سمجھنا اہم ہے، کیونکہ تصوف میں خودداری اور تکبر ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
سلطان کا دست بستہ ہونا ایک علامتی منظر ہے، جس میں دنیاوی طاقت کے مقابلے میں شاعر اپنی باطنی شناخت کو اہمیت دیتا ہے۔

مرکزی مفہوم

شاعر اپنے وقار اور ذاتی شناخت کے باقی رہنے کو اہم قرار دیتا ہے، لیکن ’’انا‘‘ کا مثبت یا منفی مفہوم شاعر کی اصل مراد سے واضح ہوگا۔

شعر نمبر 7

ہوگیا ہے سر قلندر کا بلند پھر بھی عاصی ہر جگہ محفوظ ہے

مشکل الفاظ

قلندر: صوفیانہ روایت میں دنیاوی نمود و نمائش سے بے نیاز، آزاد منش اور روحانی شخصیت۔
سر بلند ہونا: عزت، وقار یا کامیابی حاصل ہونا۔
عاصی: گناہ گار؛ یہ لفظ شاعر کے تخلص کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے۔
محفوظ: سلامت، محفوظ یا خطرے سے بچا ہوا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر قلندر کے بلند سر کو روحانی وقار، خودداری اور استقامت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ قلندر کی شخصیت عام طور پر دنیاوی شان و شوکت سے بے نیاز اور اپنے باطنی یقین میں مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ اس کا سر بلند ہونا اس کے روحانی مرتبے یا عزت کے اظہار کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔
دوسرے مصرعے میں ’’عاصی‘‘ کا لفظ دو معنوی امکانات رکھتا ہے۔ یہ شاعر کا تخلص بھی ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو خطاکار سمجھنے والے انسان کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اگر یہ تخلص ہے تو شاعر اپنی شناخت کے محفوظ رہنے کی بات کرتا ہے۔ اگر اسے لغوی معنی میں لیا جائے تو مفہوم یہ بن سکتا ہے کہ اپنی کمزوریوں اور خطاؤں کے باوجود انسان اللہ کی حفاظت اور رحمت کا امیدوار رہتا ہے۔
یہاں ’’ہر جگہ محفوظ‘‘ ہونے کا بیان روحانی اعتماد اور امید کا احساس پیدا کرتا ہے، تاہم اس سے کسی انسان کی ہر حال میں جسمانی حفاظت کی ضمانت مراد لینا ضروری نہیں۔

مرکزی مفہوم

قلندری وقار، روحانی استقامت اور اللہ کی رحمت سے امید اس شعر کے نمایاں پہلو ہیں۔ ’’عاصی‘‘ کے لفظ میں تخلص اور لغوی معنی دونوں کی گنجائش موجود ہے۔

مجموعی تاثر

منتظم عاصیؔ کی اس صوفیانہ غزل میں حق کی بقا، روحانی سلسلے کے تسلسل، دل کی روشنی، توکل اور خودداری کے موضوعات نمایاں ہیں۔ شاعر بار بار ایسی صورتیں پیش کرتا ہے جن میں بظاہر کچھ ختم ہو جاتا ہے، مگر کوئی بنیادی حقیقت باقی رہتی ہے: سلسلہ محفوظ رہتا ہے، دل کا دیا بجھنے سے بچ جاتا ہے، اور کشتی ڈوبنے کے باوجود ناخدا سلامت رہتا ہے۔
غزل کا سب سے مؤثر علامتی پیکر دل کے طاق میں جلتا ہوا دیا ہے، کیونکہ وہ محرومی کے باوجود امید کی بقا کو محسوس شکل دیتا ہے۔ اسی طرح کشتی اور ناخدا کا استعارہ نقصان کے مقابلے میں رہنمائی اور اعتماد کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ پہلے شعر کی ترکیب ’’کن ازل سے عزمِ لا‘‘ اور بعض دوسرے مصرعوں کی نحوی ترتیب واضح نہیں۔ اصل متن کی تصدیق سے ان اشعار کی تشریح مزید مستند اور دقیق ہو سکتی ہے۔

✦ कलात्मक ख़ूबियाँ

ردیف و قاففیہ: "محفوظ ہے" का रदीफ और "لا-महफूज, सिलसिला, इन्तिहा, ना-खुदा" जैसे काफ़िये गज़ल को एक मज़बूत साउण्ड और लेहजें की पाबंदी…

ردیف و قاففیہ: "محفوظ ہے" का रदीफ और "لا-महफूज, सिलसिला, इन्तिहा, ना-खुदा" जैसे काफ़िये गज़ल को एक मज़बूत साउण्ड और लेहजें की पाबंदी देते हैं।

صنعتِ تضاد (Sanat-e-Tazad): बुझ गया सब कुछ / महफूज है, डूबना / ना-खुदा का महफूज रहना—यह तजाद (विरोधाभास) गज़ल के हुस्न को दुबाला करता है।

توازن اور روانی: अल्फाज़ का इंतखाब इस तरह किया गया है कि जुबान पर चढ़ते ही एक मुकम्मल संगीत पैदा होता है।

✦ प्रतीकवाद

ताक़-ए-दिल और दिया: दिल के गोशे में उम्मीद या रूहानी नूर की अलामत है।

कश्ती और ना-खुदा: जिंदगी का सफर और उस सफर को पार लगाने वाली कुदरती या रूहानी त…

ताक़-ए-दिल और दिया: दिल के गोशे में उम्मीद या रूहानी नूर की अलामत है।

कश्ती और ना-खुदा: जिंदगी का सफर और उस सफर को पार लगाने वाली कुदरती या रूहानी ताकत (रब) की अलामत।

काफिला: हक और सच्चाई पर चलने वाले कारवां का इस्तिआरा है जो वक्त के साथ चलता रहता है।

✦ रूपक और उपमाएँ

दस्त-बस्ता सुल्तान: दुनियावी ताकत और बादशाहों का हक के सामने झुकना या बेबस होना एक बेहतरीन इश्तियारात (रूपक) है।

कलंदर का सर बुलंद: बेनियाज़ी और फक…

दस्त-बस्ता सुल्तान: दुनियावी ताकत और बादशाहों का हक के सामने झुकना या बेबस होना एक बेहतरीन इश्तियारात (रूपक) है।

कलंदर का सर बुलंद: बेनियाज़ी और फकीराना शान रखने वाले शख्स की बुलंदी को तशबीह दी गई है।

ताक-ए-दिल: दिल को एक रोशनदान या महराब (ताक) से तशबीह दी गई है जहाँ उम्मीद का दिया जलता है।

✦ शायर के वैचारिक आयाम

शायर का फिक्र इस बात पर यकीन रखता है कि भौतिक और जाहिरी तौर पर इंसान चाहे सब कुछ हार जाए, लेकिन अगर उसकी रूह और उसका जमीर जिंदा है, तो वह फतहयाब है। व…

शायर का फिक्र इस बात पर यकीन रखता है कि भौतिक और जाहिरी तौर पर इंसान चाहे सब कुछ हार जाए, लेकिन अगर उसकी रूह और उसका जमीर जिंदा है, तो वह फतहयाब है। वह वक्त और हालात के सामने घुटने टेकने के बजाय अपनी अना (अहसास-ए-खुद्री) और हकपरस्ती को सर्वोच्च मानता है।

✦ आज के दौर में ग़ज़ल की प्रासंगिकता

आज के इस दौर में—जहां हर तरफ अफरा-तफरी, स्वार्थ, और वैचारिक दबाव का बोलबाला है—यह गज़ल इंसान को अंदर से मजबूत करने का काम करती है। जब दुनिया में झूठ औ…

आज के इस दौर में—जहां हर तरफ अफरा-तफरी, स्वार्थ, और वैचारिक दबाव का बोलबाला है—यह गज़ल इंसान को अंदर से मजबूत करने का काम करती है। जब दुनिया में झूठ और जफा (अन्याय) का बोलबाला हो, तब यह गज़ल याद दिलाती है कि हक का सिलसिला और जमीर की हिफाजत ही इंसान की असल पूंजी है। यह मौजूदा दौर के मानसिक और रूहानी संकट में सुकून और हौसले का पैगाम देती है।

← पिछला अगला →

✍️ मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी — संक्षिप्त परिचय

मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी
📍 मालेगाँव, महाराष्ट्र, भारत

### मुंतज़िम आसी — एक तफ़सीली अदबी तआरुफ़
मुंतज़िम आसी उर्दू अदब की दुनिया में एक ऐसे शख़्स के तौर पर सामने आते हैं जिनकी अदबी ज़िंदगी में शायरी, रूहानियत, मुतालआ, इल्म-ए-अरूज़ और अदबी ख़िदमत एक-दूसरे से जुड़ी हुई नज़र आती हैं। उनकी शख़्सियत का सबसे अहम पहलू यह है कि उन्होंने शायरी को महज़ शौक़ नहीं बल्कि एक लगातार जारी रहने वाले जुनून और ज़िम्मेदारी के तौर पर अपनाया।
उनका अदबी सफ़र किसी एक दिन …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी की और रचनाएँ
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन