اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
حمد

قمر آسیؔ کی حمدیہ غزل | میں حمدِ باری کروں تو کیسے، ثناء کے قابل زباں نہیں ہے

قمرآسیؔ بدھ، 23 ستمبر 2026
👁 33 ❤️ 0
میں حمدِ باری کروں تو کیسے ثناء کے قابل زباں نہیں ہے
لبوں پہ میرے ہیں لفظ لیکن خیال عالی بیاں نہیں ہے
ہر ایک شے میں تری نمو ہے ، جدھر بھی دیکھوں بس ایک تو ہے
جہاں میں ہر سو ترے ہی جلوے ، نہیں وہ جا تو جہاں نہیں ہے
ترا ہی حامد ہر اک شجر ہے ، ترا ہی ذاکر حجر حجر ہے
ہے وصف تیرا ہی سب گلوں میں ، مگر تو پھر بھی عیاں نہیں ہے
فلک پہ جتنے ہیں چاند تارے ، ہیں تیری قدرت کے یہ اشارے
تری خدائی کی حد نہیں ہے ، مرے خدا تو کہاں نہیں ہے
یہ بادلوں سے برستا پانی ، یہ رات دن کی عجب کہانی
یہ سب تری ہی عنایتیں ہیں اور اس قدر کہ گماں نہیں ہے
زمیں کے اندر بھی تیری خلقت ، زمیں کے باہر تری حکومت
مکینِ قلبِ سلیم ہے تُو ، مکیں ہے لیکن مکاں نہیں ہے
کرم یہ ہم پر کیا ہے تو نے ، حبیب اپنا دیا ہے تو نے
نوازشیں تیری کیا بیاں ہوں کہ اتنی عمر ِ رواں نہیں ہے
الٰہی مجھ کو جنوں عطا کر ، دے فقر ، سوزِ دروں عطا کر
عطا ہو چشمِ رواں بھی مجھ کو ، نہ ہو جو لب پر فغاں نہیں ہے
رحیم بھی تو ، کریم بھی تو ، رؤف بھی تو ، علیم بھی تو
ہے قلبِ آسیؔ سے تو ہی واقف کہ تجھ سے کچھ بھی نہاں نہیں ہے
حوالہ: عطا ،صفحہ نمبر18-19
📖 خلاصہ

یہ خوبصورت حمدیہ غزل شاعر قمر آسیؔ کی عقیدت، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا اظہار ہے۔ شاعر اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کی مکمل حمد و ثنا بیان کرنے سے قاصر سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک ربِ کائنات کی شان انسانی الفاظ اور بیان سے کہیں بلند ہے۔ غزل کے اشعار میں کائنات کی ہر شے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی تخلیق، رحمت، کرم اور جلوۂ قدرت کا ذکر ملتا ہے۔ شاعر بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ اپنی قدرت کے آثار کے ذریعے جلوہ گر ہے، مگر اس کی ذات انسانی نگاہ اور الفاظ ک

📚 ادبی جائزہ

یہ کلام بنیادی طور پر حمدیہ اور روحانی شاعری کی روایت سے وابستہ ہے۔ شاعر نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کے لیے کائنات کے مختلف مظاہر کو وسیلہ بنایا ہ…

یہ کلام بنیادی طور پر حمدیہ اور روحانی شاعری کی روایت سے وابستہ ہے۔ شاعر نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کے لیے کائنات کے مختلف مظاہر کو وسیلہ بنایا ہے۔ شجر، حجر، گل، چاند، تارے، بادل، پانی، زمین اور آسمان سب قدرتِ الٰہی کی نشانیاں بن کر سامنے آتے ہیں۔

زبان سادہ، رواں اور عقیدت سے بھرپور ہے۔ شاعر مشکل فلسفیانہ اصطلاحات کے بجائے عام فہم الفاظ میں اپنی روحانی کیفیت بیان کرتا ہے۔ ہر شعر میں اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت، قدرت یا عنایت کا ذکر موجود ہے۔

🖋️ تنقیدی جائزہ

غزل کا بنیادی حسن شاعر کی عاجزی اور اعترافِ عجز میں ہے۔ پہلے ہی شعر میں شاعر یہ احساس پیش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے لیے اس کی زبان اور الفاظ نا…

غزل کا بنیادی حسن شاعر کی عاجزی اور اعترافِ عجز میں ہے۔ پہلے ہی شعر میں شاعر یہ احساس پیش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے لیے اس کی زبان اور الفاظ ناکافی ہیں۔ یہی احساس پوری غزل کو ایک مربوط روحانی کیفیت عطا کرتا ہے۔

شاعر کائنات کے مظاہر کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار کے طور پر دیکھتا ہے۔ تاہم وہ یہ فرق بھی برقرار رکھتا ہے کہ قدرت کے جلوے ہر طرف موجود ہیں، مگر ذاتِ الٰہی انسانی ادراک کی حدود سے بلند ہے۔

آخری اشعار میں حمد کا انداز دعا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ شاعر دنیاوی خواہشات کے بجائے روحانی عطاؤں، فقر، سوزِ دروں اور گریہ و مناجات کی کیفیت طلب کرتا ہے۔ اس طرح غزل صرف حمد نہیں رہتی بلکہ ایک عاجز بندے کی روحانی مناجات کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے۔

✦ مرکزی خیال

اس حمدیہ غزل کا مرکزی خیال اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت، رحمت، بے پایاں کرم اور کائنات میں اس کی نشانیوں کا مشاہدہ ہے۔

شاعر اپنی کم مائیگی اور عاجزی ک…

اس حمدیہ غزل کا مرکزی خیال اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت، رحمت، بے پایاں کرم اور کائنات میں اس کی نشانیوں کا مشاہدہ ہے۔

شاعر اپنی کم مائیگی اور عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی حمد و ثنا انسانی الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کی جا سکتی۔ کائنات کی ہر شے اللہ کی قدرت کی گواہی دیتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی ذات انسانی حواس کی گرفت سے ماورا ہے۔

غزل کے آخری اشعار میں شاعر ذاتی طور پر اللہ تعالیٰ سے جنونِ عشق، فقر، سوزِ دروں اور چشمِ رواں جیسی روحانی نعمتوں کی دعا بھی کرتا ہے۔

✦ شعر بہ شعر تشریح

1۔ شعر
میں حمدِ باری کروں تو کیسے ثناء کے قابل زباں نہیں ہے
لبوں پہ میرے ہیں لفظ لیکن خیال عالی بیاں نہیں ہے
تشریح:
شاعر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا …

1۔ شعر
میں حمدِ باری کروں تو کیسے ثناء کے قابل زباں نہیں ہے
لبوں پہ میرے ہیں لفظ لیکن خیال عالی بیاں نہیں ہے

تشریح:

شاعر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے اپنی زبان کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کو پوری طرح بیان کر سکے۔ شاعر کہتا ہے کہ میرے ہونٹوں پر الفاظ تو موجود ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی شان اور عظمت اتنی بلند ہے کہ میرے الفاظ اس کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتے۔
یہ شعر شاعر کی عاجزی، انکساری اور اعترافِ عجز کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ انسان جتنی بھی حمد کرے، اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کے بیان سے کہیں زیادہ ہے۔

مرکزی مفہوم:

اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عظمت کے سامنے انسان اپنی زبان اور بیان کو عاجز محسوس کرتا ہے۔

2۔ شعر
ہر ایک شے میں تری نمو ہے، جدھر بھی دیکھوں بس ایک تو ہے
جہاں میں ہر سو ترے ہی جلوے، نہیں وہ جا تو جہاں نہیں ہے

تشریح:

شاعر کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نشوونما کے آثار دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں جدھر بھی نظر اٹھاتا ہوں، مجھے تیری قدرت کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں۔
پھولوں کا کھلنا، درختوں کا بڑھنا، انسان اور جانوروں کی زندگی، زمین و آسمان کا نظام—یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ شاعر کے نزدیک کائنات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار دکھائی نہ دیتے ہوں۔
یہاں “جلوے” سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی پیدا کی ہوئی نشانیوں کا ظہور ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا کسی مادی جگہ میں موجود ہونا۔

مرکزی مفہوم:

کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تخلیق کی نشانی ہے۔

3۔ شعر
ترا ہی حامد ہر اک شجر ہے، ترا ہی ذاکر حجر حجر ہے
ہے وصف تیرا ہی سب گلوں میں، مگر تو پھر بھی عیاں نہیں ہے

تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ ہر درخت اپنی خاموش زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا محسوس ہوتا ہے اور ہر پتھر اس کی تسبیح بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح ہر پھول میں اللہ تعالیٰ کی خوبصورتی، قدرت اور کاریگری کے آثار موجود ہیں۔
لیکن اس تمام کائناتی حسن اور قدرت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ذات انسانی آنکھ سے براہِ راست ظاہر نہیں ہوتی۔ انسان اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھ سکتا ہے، مگر اس کی ذات کو اپنی محدود حسی نگاہ سے مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتا۔

مرکزی مفہوم:

کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت کی گواہی دیتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی ذات انسانی ادراک سے بلند ہے۔

4۔ شعر
فلک پہ جتنے ہیں چاند تارے، ہیں تیری قدرت کے یہ اشارے
تری خدائی کی حد نہیں ہے، مرے خدا تو کہاں نہیں ہے

تشریح:

آسمان پر موجود بے شمار چاند، ستارے اور دوسرے مظاہرِ فطرت اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ شاعر آسمان کی وسعت اور اس میں موجود ستاروں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی عظمت کا تصور کرتا ہے۔
“تری خدائی کی حد نہیں ہے” کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بادشاہی کی کوئی انسانی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔
دوسرے مصرعے میں شاعر سوالیہ انداز میں کہتا ہے کہ اے میرے خدا! تیری قدرت کی نشانیاں ایسی کون سی جگہ ہیں جہاں موجود نہیں؟
یہ سوال دراصل تعجب، عقیدت اور اعترافِ قدرت کا اظہار ہے۔

مرکزی مفہوم:

کائنات کی وسعت اللہ تعالیٰ کی بے حد و حساب قدرت کی نشانی ہے۔

5۔ شعر
یہ بادلوں سے برستا پانی، یہ رات دن کی عجب کہانی
یہ سب تری ہی عنایتیں ہیں اور اس قدر کہ گماں نہیں ہے

تشریح:

شاعر بارش، بادلوں اور رات دن کے مسلسل بدلتے ہوئے نظام کو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور عنایت قرار دیتا ہے۔
بادلوں سے پانی کا برسنا زمین کو زندگی دیتا ہے، فصلیں اگتی ہیں، درخت اور پودے سرسبز ہوتے ہیں اور مخلوق کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اسی طرح رات اور دن کا باقاعدہ سلسلہ بھی ایک حیرت انگیز قدرتی نظام ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عنایتیں اتنی زیادہ ہیں کہ انسان ان کا مکمل اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔

مرکزی مفہوم:

بارش، رات، دن اور زندگی کا پورا نظام اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور عنایتوں کی یاد دلاتا ہے۔

6۔ شعر
زمیں کے اندر بھی تیری خلقت، زمیں کے باہر تری حکومت
مکینِ قلبِ سلیم ہے تُو، مکیں ہے لیکن مکاں نہیں ہے

تشریح:

شاعر کہتا ہے کہ زمین کے اندر بھی اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی بے شمار مخلوقات موجود ہیں اور زمین کے باہر پوری کائنات پر اسی کی قدرت کا نظام قائم ہے۔
“مکینِ قلبِ سلیم” ایک روحانی اور استعاراتی انداز ہے۔ شاعر کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، یاد اور عقیدت کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے پاکیزہ دل میں اپنی یاد کے ذریعے بسا ہوا ہے، لیکن وہ کسی مکان یا جگہ کا محتاج نہیں۔
یہاں “مکیں ہے لیکن مکاں نہیں ہے” کے ذریعے شاعر اللہ تعالیٰ کی ذات کو مادی جگہ اور حدود سے ماورا بیان کرتا ہے۔

مرکزی مفہوم:

اللہ تعالیٰ کی قدرت ہر طرف ہے اور اس کی یاد پاکیزہ دل میں موجود رہتی ہے، مگر اس کی ذات کسی مادی مکان کی پابند نہیں۔

7۔ شعر
کرم یہ ہم پر کیا ہے تو نے، حبیب اپنا دیا ہے تو نے
نوازشیں تیری کیا بیاں ہوں کہ اتنی عمرِ رواں نہیں ہے

تشریح:

شاعر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور کرم کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تو نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا کہ اپنے محبوب عطا فرمائے۔
“حبیب اپنا دیا ہے تو نے” میں شاعر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عظیم روحانی نعمت کا ذکر کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نوازشیں اتنی زیادہ ہیں کہ پوری زندگی بھی ان کا شکر ادا کرنے کے لیے کافی نہیں۔
“عمرِ رواں” سے مراد انسان کی گزرتی ہوئی زندگی ہے۔

مرکزی مفہوم:

اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور نوازشیں بے شمار ہیں اور انسان اپنی پوری زندگی میں بھی ان کا مکمل شکر ادا نہیں کر سکتا۔

8۔ شعر
الٰہی مجھ کو جنوں عطا کر، دے فقر، سوزِ دروں عطا کر
عطا ہو چشمِ رواں بھی مجھ کو، نہ ہو جو لب پر فغاں نہیں ہے

تشریح:

اس شعر میں شاعر حمد سے آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے ایسا جنونِ عشق مانگتا ہے جو اسے عبادت اور محبتِ الٰہی میں مضبوط کرے۔
فقر سے مراد یہاں روحانی بے نیازی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و محتاجی کا احساس ہے۔
سوزِ دروں سے مراد دل کی وہ گہری کیفیت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی یاد اور محبت میں تڑپاتی ہے۔
چشمِ رواں سے مراد ایسی آنکھیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور خشیت میں آنسو جاری ہوں۔ شاعر چاہتا ہے کہ اس کے دل کی کیفیت ایسی ہو کہ اس کے لبوں پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا اور فریاد موجود رہے۔

مرکزی مفہوم:

شاعر اللہ تعالیٰ سے روحانی عشق، عاجزی، دل کا سوز اور رقتِ قلب کی دعا کرتا ہے۔

9۔ شعر
رحیم بھی تو، کریم بھی تو، رؤف بھی تو، علیم بھی تو
ہے قلبِ آسیؔ سے تو ہی واقف کہ تجھ سے کچھ بھی نہاں نہیں ہے

تشریح:

مقطع میں شاعر اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرتا ہے: وہ رحیم ہے، یعنی بہت رحم فرمانے والا؛ کریم ہے، یعنی بہت کرم فرمانے والا؛ رؤف ہے، یعنی نہایت شفقت فرمانے والا؛ اور علیم ہے، یعنی سب کچھ جاننے والا۔
آخر میں شاعر اپنے تخلص “آسیؔ” کا استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے دل کی ہر کیفیت سے اللہ تعالیٰ واقف ہے۔ انسان اپنے دل کی بات دوسروں سے چھپا سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
یہ شعر حمد کے اختتام کو ایک دعا، اعترافِ بندگی اور اللہ تعالیٰ کے علم و رحمت پر یقین میں تبدیل کر دیتا ہے۔

مرکزی مفہوم:

اللہ تعالیٰ انسان کے ظاہر و باطن، دل کے جذبات اور تمام حالات سے مکمل طور پر واقف ہے۔

مجموعی مرکزی خیال

اس حمد میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت، رحمت، کرم اور بے شمار نعمتوں کا بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کائنات کے مختلف مظاہر—شجر، حجر، گل، چاند، ستارے، بادل، بارش، زمین اور آسمان—کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں قرار دیتا ہے۔
حمد کے آغاز میں شاعر اپنی کم مائیگی اور عاجزی کا اظہار کرتا ہے، درمیان میں کائنات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرتا ہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ سے جنونِ عشق، فقر، سوزِ دروں اور چشمِ رواں کی دعا کرتا ہے۔
یوں یہ حمد حمد و ثنا، مشاہدۂ قدرت، اعترافِ عجز اور روحانی دعا—چاروں کیفیتوں کو خوبصورتی سے یکجا کرتی ہے۔

✦ فنی محاسن

حمدیہ اور روحانی اسلوب
عاجزی اور انکسار کا مؤثر اظہار
تکرارِ لفظ سے معنوی زور پیدا کرنا
کائناتی مظاہر سے شعری پیکر تراشنا
استفہامیہ اندازِ بیان
د…

حمدیہ اور روحانی اسلوب
عاجزی اور انکسار کا مؤثر اظہار
تکرارِ لفظ سے معنوی زور پیدا کرنا
کائناتی مظاہر سے شعری پیکر تراشنا
استفہامیہ اندازِ بیان
دعا اور مناجات کا رنگ
اللہ تعالیٰ کی صفات کا خوبصورت ذکر
سادہ، رواں اور بامعنی زبان
ہر شعر میں قدرتِ الٰہی کی ایک نئی جہت
آخری شعر میں تخلص آسیؔ کا خوبصورت استعمال

✦ علامت نگاری

شجر
شجر اللہ تعالیٰ کی تخلیقی قدرت اور حمد و تسبیح کی علامت ہے۔

حجر
حجر یعنی پتھر بھی قدرتِ الٰہی کی نشانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

گل
پھول …

شجر

شجر اللہ تعالیٰ کی تخلیقی قدرت اور حمد و تسبیح کی علامت ہے۔

حجر

حجر یعنی پتھر بھی قدرتِ الٰہی کی نشانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

گل

پھول حسن، تخلیق اور قدرتِ خداوندی کی علامت ہے۔

چاند اور تارے

کائنات کی وسعت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر کی علامت ہیں۔

بادل اور پانی

رحمت، زندگی اور قدرتِ الٰہی کی علامت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

زمین و آسمان

اللہ تعالیٰ کی وسیع و بے حد حکومت اور تخلیقی قدرت کی علامت ہیں۔

چشمِ رواں

آنسو، گریہ، عاجزی اور روحانی کیفیت کی علامت ہے۔

✦ استعارات و تشبیہات

غزل میں کائنات کے مظاہر کو قدرتِ الٰہی کے اشاروں اور جلووں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شجر، حجر اور گل کا ذکر اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ ہر مخلوق اپنے …

غزل میں کائنات کے مظاہر کو قدرتِ الٰہی کے اشاروں اور جلووں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شجر، حجر اور گل کا ذکر اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ ہر مخلوق اپنے وجود کے ذریعے خالق کی قدرت کی گواہی دے رہی ہے۔

"مکینِ قلبِ سلیم" ایک خوبصورت استعاراتی ترکیب ہے، جس میں شاعر اللہ تعالیٰ کو پاکیزہ دل کے مکین کے طور پر یاد کرتا ہے۔ یہاں "قلبِ سلیم" پاکیزہ اور صاف دل کی علامت ہے۔

"وفا کی جنگ" یا اس نوع کی جنگی ترکیبیں اس حمدیہ غزل میں موجود نہیں؛ اس کلام کا استعاراتی نظام زیادہ تر کائنات، قدرت، قلب اور روحانی کیفیت کے گرد گھومتا ہے۔

✦ شاعر کے فکری زاویے

قمر آسیؔ کی اس حمدیہ غزل میں چند نمایاں فکری زاویے سامنے آتے ہیں:

1 اعترافِ عجز: شاعر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے میں اپنی زبان کو ناکافی سمجھتا ہ…

قمر آسیؔ کی اس حمدیہ غزل میں چند نمایاں فکری زاویے سامنے آتے ہیں:

1 اعترافِ عجز: شاعر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے میں اپنی زبان کو ناکافی سمجھتا ہے۔
2 قدرتِ الٰہی کا مشاہدہ: کائنات کی ہر شے میں قدرتِ خداوندی کے آثار دیکھے گئے ہیں۔
3 توحید کا احساس: ہر سمت ایک ہی خالق و مالک کی قدرت کا تصور نمایاں ہے۔
4 رحمت و کرم: شاعر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشوں کو یاد کرتا ہے۔
5 روحانی طلب: شاعر دنیاوی چیزوں کے بجائے فقر، سوزِ دروں اور جنون جیسی روحانی کیفیات طلب کرتا ہے۔
6 قربِ الٰہی: قلبِ سلیم میں اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
7 مناجات: آخری حصے میں شاعر براہِ راست اللہ تعالیٰ سے روحانی عطاؤں کی دعا کرتا ہے۔

✦ آج کے دور میں غزل کی معنویت

آج کے دور میں یہ حمدیہ کلام انسان کو اپنی مصروف اور مادی زندگی سے نکل کر کائنات، قدرت اور اپنے باطن پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

بادل سے برسنے والے…

آج کے دور میں یہ حمدیہ کلام انسان کو اپنی مصروف اور مادی زندگی سے نکل کر کائنات، قدرت اور اپنے باطن پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

بادل سے برسنے والے پانی، چاند، تاروں، زمین، آسمان، درختوں اور پھولوں جیسے مظاہر آج بھی انسان کے سامنے موجود ہیں۔ شاعر ان مظاہر کے ذریعے قاری کو قدرتِ الٰہی کے مشاہدے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

اسی طرح قلبِ سلیم، فقر، سوزِ دروں اور چشمِ رواں کی دعائیں روحانی پاکیزگی اور باطنی اصلاح کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ اس اعتبار سے کلام کا پیغام موجودہ دور کے انسان کے لیے بھی روحانی اور اخلاقی غوروفکر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

← پچھلا اگلا →
قمرآسیؔ کی مزید
وسیلہ حق شناسی کا نبی کی ذات ہوتی ہے نبی کا فعل ہوتا ہے ، نبی کی بات ہوتی ہے ثنائے سرورِ کونین میں م...
ہر اک دعا میں ہر اک آرزو میں شامل ہے وطن کا عشق ہمارے لہو میں شامل ہے کریں برائے وطن اپنی جان بھی قر...
کتاب حسن ہمیں دستیاب کرنے میں لگائی دیر کسی نے نقاب کرنے میں تری جبین و لب و عارض و نظر سب ہی شریک ہ...
یار خوفِ خدا کیا کیجے پیار کیجے تو بے ریا کیجے زہر لگتے ہیں شہد آگیں لب غیر کا نام مت لیا کیجے چشمِ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن