اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

تجھ لب کی صفت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ اور ادبی جائزہ

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 37 ❤️ 0
تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین، غزالاں سوں کہوں گا
دی حق نے تجھے بادشَہی حسن نگر کی
یو کشورِ ایراں میں سلیماں سوں کہوں گا
تعریف ترے قد کی الف دار، سری جن
جا سرو گلستاں کوں خوش الحاں سوں کہوں گا
مجھ پر نہ کرو ظلم، تم اے لیلٰیِ خوباں
مجنوں ہوں، ترے غم کوں بیاباں سوں کہوں گا
دیکھا ہوں تجھے خواب میں اے مایۂ خوبی
اس خواب کو جا یوسفِ کنعاں سوں کہوں گا
جلتا ہوں شب و روز ترے غم میں اے ساجن
یہ سوز ترا مشعلِ سوزاں سوں کہوں گا
یک نقطہ ترے صفحۂ رخ پر نہیں بے جا
اس مُکھ کو ترے صفحۂ قرآں سوں کہوں گا
زخمی کیا ہے مجھ تری پلکوں کی انی نے
یہ زخم ترا خنجر و بھالاں سوں کہوں گا
بے صبر نہ ہو اے ولی اس درد سے ہر گاہ
جلدی سوں ترے درد کی درماں سوں کہوں گا
📖 सार

ولی دکنی کی اس غزل میں محبوب کے حسن کو کلاسیکی استعاروں اور علامتوں کے ذریعے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کے لبوں کو لعلِ بدخشاں، آنکھوں کو غزالوں کی جادوگری، اور قد کو سروِ گلستاں سے تشبیہ دیتا ہے، جس سے اس کے حسن کی رفعت اور دلکشی ظاہر ہوتی ہے۔
غزل میں عشق کو ایک مسلسل سوز اور بے قراری کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے آپ کو لیلیٰ کے غم میں مجنوں اور صحرا کا مسافر قرار دیتا ہے، جو عشق کی شدت اور دیوانگی کی علامت ہے۔ محبوب کے حسن کو یوسفِ کنعان، بادشاہِ حسن اور صفحۂ قرآن جیس

← पिछला अगला →

✍️ ولی دکنی — संक्षिप्त परिचय

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ولی دکنی की और रचनाएँ
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन