اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ اور ادبی جائزہ

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 30 ❤️ 1
ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو
ہر دن کو عید جان گلے سے لگا کرو
حق اُس کو ہمکلام رکھے مجھ سے رات دن
اس بات سے مدام رقیبو جلا کرو
وعدہ کیا تھا رات کو آؤں گا صبح میں
اے مہربان وعدہ کو اپنے وفا کرو
کب تک رکھو گے طرز تغافل کو دل میں تم
ٹک کان دھر کے حال کسی کا سنا کرو
آیا ہوں احتیاج سے تم پاس اے صنم
اپنے لبوں کے خضر کو حاجت روا کرو
اک بات ہے ولی کی سنو کان رکھ صنم
میرے رواق چشم میں دائم رہا کرو
📖 सार

ولی دکنی کی اس غزل میں عاشق کی سب سے بڑی خواہش محبوب کی مسلسل قربت اور اس کے لطف و کرم کا حصول ہے۔ شاعر محبوب سے التجا کرتا ہے کہ اس کا وصال ہر رات اور ہر دن جاری رہے، یہاں تک کہ ہر دن بھی عید کی طرح خوشی کا سبب بن جائے۔
غزل میں عشق کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جہاں ہجر ناقابلِ برداشت اور وصال زندگی کی اصل خوشی بن جاتا ہے۔ شاعر محبوب کے وعدے اور اس کی وفا کو زندگی کی امید قرار دیتا ہے اور اس کی بے رخی سے پیدا ہونے والے رقیب کے حسد کا ذکر بھی کرتا ہے۔
محبوب کے لبوں کو "خضر" سے تشبیہ دے کر شاعر ان

← पिछला अगला →

✍️ ولی دکنی — संक्षिप्त परिचय

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ولی دکنی की और रचनाएँ
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन