اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

جب صنم کو خیالِ باغ ہوا – ولی دکنی کی عشقیہ و جمالیاتی غزل

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 33 ❤️ 0
جب صنم کو خیالِ باغ ہوا
طالبِ نشّۂ فراغ ہوا
فوجِ عشاق دیکھ ہر جانب
نازنیں صاحبِ دماغ ہوا
رشک سے تجھ لباں کی سرخی پر
جگرِ لالہ داغ داغ ہوا
دلِ عشاق کیوں نہ ہو روشن
جب خیالِ صنم چراغ ہوا
اے ولی گل بدن کو باغ میں دیکھ
دلِ صد چاک باغ باغ ہوا
صحنِ گلشن میں جب خرام کیا
سرو آزاد کو غلام کیا
کاملیت کا تجھ کو تھا دعویٰ
حق نے دعویٰ ترا تمام کیا
غمزۂ شوخ نے بہ نیم نگاہ
کام عشاق کا تمام کیا
تجھ دہن نے کہ میم معنی ہے
دلِ سیماب میں مقام کیا
تا کہے خلق تجھ کو ماہِ تمام
زلف تیری کو حق نے لام کیا
گل رخاں خوف سے ہوئے یکسو
تجھ نگہ نے جب اہتمام کیا
تام تیرا ولیؔ نے اے اکمل
شوق سے ورد صبح و شام کیا
📖 Summary

ولی دکنی کی اس غزل میں محبوب کے حسن و جمال کو مرکزِ کائنات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ جب محبوب باغ کی سیر کو نکلتا ہے تو ہر طرف عشق کا شور برپا ہو جاتا ہے۔ اس کے لبوں کی سرخی، نگاہ کی شوخی اور حسن کی چمک ایسی ہے کہ فطرت کے تمام مظاہر اس کے سامنے ماند پڑ جاتے ہیں۔ غزل میں عاشق کے دل کو محبوب کے خیال سے روشن چراغ سے تشبیہ دی گئی ہے، جبکہ محبوب کی ایک نیم نگاہ عشاق کے دلوں پر قیامت ڈھا دیتی ہے۔ دوسرے حصے میں شاعر محبوب کے حسن کو چاند، سرو اور گل جیسے روایتی استعاروں سے بلند تر ق

← Previous Next →

✍️ ولی دکنی — Short Introduction

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ولی دکنی
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online