جب صنم کو خیالِ باغ ہوا – ولی دکنی کی عشقیہ و جمالیاتی غزل
ولی دکنی کی اس غزل میں محبوب کے حسن و جمال کو مرکزِ کائنات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ جب محبوب باغ کی سیر کو نکلتا ہے تو ہر طرف عشق کا شور برپا ہو جاتا ہے۔ اس کے لبوں کی سرخی، نگاہ کی شوخی اور حسن کی چمک ایسی ہے کہ فطرت کے تمام مظاہر اس کے سامنے ماند پڑ جاتے ہیں۔ غزل میں عاشق کے دل کو محبوب کے خیال سے روشن چراغ سے تشبیہ دی گئی ہے، جبکہ محبوب کی ایک نیم نگاہ عشاق کے دلوں پر قیامت ڈھا دیتی ہے۔ دوسرے حصے میں شاعر محبوب کے حسن کو چاند، سرو اور گل جیسے روایتی استعاروں سے بلند تر ق
✍️ ولی دکنی — Short Introduction
ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




No comments yet — be the first!