اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
نظم

کاہے کو بیاہی بدیس | امیر خسرو کا مشہور لوک و صوفیانہ کلام

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ پیر، 8 جون 2026
👁 62 ❤️ 1
کاہے کو بیاہی بدیس
کاہے کو بیاہی بدیسرے لکھی بابل مورے
کاہے کو بیاہی بدیس
بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس
کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!
کاہے کو بیاہی بدیس
ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں
جد ہانکے ، ہنک جائیں
ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں
گھر گھر مانگی جائیں
ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں
بھور بھئے اڑ جائیں
ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں
چھوٹا سہیلی کا ساتھ
کوٹھے تلے سے پالکی نکلی
بیرن نے کھائے پشاد
ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا
آیا پیا کا دیس
کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!
کاہے کو بیاہی بدیس؟
📖 सार

"کاہے کو بیاہی بدیس" برصغیر کے مقبول ترین لوک کلاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نظم میں ایک بیٹی اپنے والد (بابل) سے شکوہ کرتی ہے کہ اسے اپنے گھر، خاندان، سہیلیوں اور بچپن کی یادوں سے دور پردیس کیوں بیاہ دیا گیا۔ شاعر نے بیٹی کی نفسیاتی کیفیت، والدین سے وابستگی اور رخصتی کے درد کو نہایت سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
کلام میں گائے، کلی اور چڑیا جیسی تشبیہوں کے ذریعے بیٹی کی بے بسی اور معاشرتی روایت کو بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک لوک گیت ہے، مگر اس کے اندر انسانی جذبات کی ایسی گہرائی موجود

← पिछला अगला →

✍️ ابوالحسن یمین الدین خسروؔ — संक्षिप्त परिचय

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ
📍 پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)

امیر خسرو کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)

🟢 تعارف
امیر خسرو برصغیر کے عظیم شاعر، صوفی، موسیقار اور ادیب تھے۔ ان کا پورا نام:
ابوالحسن یمین الدین خسرو تھا۔
وہ فارسی اور ہندوی (قدیم اردو) دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے اور انہیں “طوطیٔ ہند” کہا جاتا ہے۔

📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1253ء
📍 مقام: پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)
والد: امیر سیف الدین محمود (ترک نژاد)
والدہ: ہن …

और पढ़ें ←
نظم क्या है?

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ की और रचनाएँ
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم پری پیکر نگارے سرو ...
چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائیکے بات اگم کہہ دینی رے موسے نیناں ملائیکے پریم بھٹی کا مدھوا پل...
کاہے کو بیاہی بدیس کاہے کو بیاہی بدیسرے لکھی بابل مورے کاہے کو بیاہی بدیس بھائیوں کو دیے محلے دو محل...
ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں صدیوں سے بھی انجام وفا دیکھ رہے ہیں بدلی ہوئی گلشن کی ہوا دیکھ ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन