نہ چھو سکا مرے لب کو ایاغ مستی کا
یہ غزل انسانی زندگی کے تضادات، داخلی کرب اور روحانی و اخلاقی احساسات کی عکاس ہے۔ شاعر اپنی بدقسمتی یا محرومی پر شکوہ نہیں کرتا بلکہ زندگی کو ایک گہرا تجربہ سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ کہیں وہ پارسائی، خدا پرستی اور شکر گزاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے تو کہیں معاشرتی بے چینی، بستی کے اضطراب اور انسان کی داخلی تنہائی کو بیان کرتا ہے۔ غزل کا اختتام ایک پُرجوش انداز میں ہوتا ہے جہاں شاعری کو خوشی، نغمگی اور مستی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
ثمامہ اقبالؔ مئوی کی یہ غزل زندگی کے دکھ، شکرگزاری، روحانی احساس او
✍️ ثمامہ اقبال — مختصر تعارف
ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!