نئے لفظ کاغذ پہ آنے لگے ہیں
یہ خوبصورت اور فکری غزل خضر احمد خان شر کی تخلیق ہے، جس میں تبدیلی، شعور، محبت اور خود اعتمادی کے مختلف پہلو نہایت دلنشین انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
شاعر ابتدا میں علم و ادب کی طرف رجحان کو ظاہر کرتا ہے کہ اب وہ کتابوں سے دل لگانے لگا ہے اور نئے خیالات الفاظ کی صورت میں کاغذ پر اُترنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فطرت اور ماحول میں بھی تبدیلی کا ذکر ہے—پرندوں کا رخ بدلنا اور نئے پودوں کا اُگنا—جو ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔
غزل میں ایک داخلی کشمکش بھی جھلکتی ہے، جہاں دلوں میں خلش ہونے کے باوجود ر
✍️ خضر احمد خان شررؔ — संक्षिप्त परिचय
خضر احمد خان شررؔ عصرِ حاضر کے اُن سنجیدہ اور باوقار شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا ہے۔ آپ کا اصل نام خضر احمد خان جبکہ قلمی نام شررؔ ہے۔ آپ 9 فروری 1970ء کو پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم کے طور پر ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
ادب سے شغف نے آپ کو شعر و سخن کی دنیا کی طرف متوجہ کیا اور سن 2000ء میں باقاعدہ طور پر طبع آزمائی کا آغاز …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!