اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

سمٹا ہوا ہوں سرد ہوا کے بغیر بھی

شاہد وصیؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 45 ❤️ 1
سمٹا ہوا ہوں سرد ہوا کے بغیر بھی
ہے جسم تار تار سزا کے بغیر بھی
فاقہ کشی کو اپنی قناعت پہ چھوڑ دے
بھر جائےگا یہ زخم دوا کے بغیر بھی
بکھری ہوئی یہ زلفِ گرہ گیر دیکھیئے
چھائی ہوئی گھٹا ہے گھٹا کے بغیر بھی
وہ دیر ہو، حرم ہو، کلیسہ ہو یا کنشت
مذہب ہے کیا کسی کا خدا کے بغیر بھی
جاڑے کی سرد رات میں سوتا ہے بےلحاف
وہ رندِ عود دیکھ ردا کی بغیر بھی
تو نغمہِ رحیل ہے، باگِ جرس بھی تو
چل تھوڑی دیر راہ نما کے بغیر بھی
کیسا یہ وقت آن پڑا ہے کہ آدمی
معتوب ہو رہا ہے خطا کے بغیر بھی
اسباب زندگی کے مہیا نہیں مگر
میں سانس لے رہا ہوں ہوا کے بغیر بھی
ان کو کسی سنگار کی حاجت نہیں وصی
وہ ہاتھ خوش نما ہے حنا کے بغیر بھی
📖 सार

یہ گہری فکری اور علامتی غزل شاہد وصی کے شعری کمال اور داخلی کرب کی عمدہ مثال ہے۔ شاعر نے اس کلام میں محرومی، صبر، خودداری اور انسانی وجود کی پیچیدگیوں کو نہایت بلیغ انداز میں پیش کیا ہے۔

ابتدائی اشعار میں ایک ایسے انسان کی تصویر ابھرتی ہے جو بغیر کسی ظاہری سبب کے بھی دکھ اور اذیت میں مبتلا ہے۔ فاقہ کشی اور تنگ دستی کو قناعت کے ذریعے سہنے کا تصور، ایک درویشانہ صبر اور داخلی قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو بغیر دوا کے بھی بھر جاتے ہیں، یعنی وقت اور برداشت ہی

← पिछला अगला →

✍️ شاہد وصیؔ — संक्षिप्त परिचय

شاہد وصیؔ
📍 مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش ، ہندوستان

محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

شاہد وصیؔ की और रचनाएँ
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے نگاہِ ناز نے ایسا اثر کیا دل ...
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ پہ ہ...
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں تم سے ملے تو زیست کے نقشے بد...
نغمہِ بربطِ نوا چپ ہے عکس بےزار آئینہ چپ ہے شوخئِ حرفِ ماجرا چپ ہے لفظ خاموش مدعا چپ ہے رہ گزر ہے کہ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन