سمٹا ہوا ہوں سرد ہوا کے بغیر بھی
یہ گہری فکری اور علامتی غزل شاہد وصی کے شعری کمال اور داخلی کرب کی عمدہ مثال ہے۔ شاعر نے اس کلام میں محرومی، صبر، خودداری اور انسانی وجود کی پیچیدگیوں کو نہایت بلیغ انداز میں پیش کیا ہے۔
ابتدائی اشعار میں ایک ایسے انسان کی تصویر ابھرتی ہے جو بغیر کسی ظاہری سبب کے بھی دکھ اور اذیت میں مبتلا ہے۔ فاقہ کشی اور تنگ دستی کو قناعت کے ذریعے سہنے کا تصور، ایک درویشانہ صبر اور داخلی قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو بغیر دوا کے بھی بھر جاتے ہیں، یعنی وقت اور برداشت ہی
✍️ شاہد وصیؔ — Short Introduction
محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




No comments yet — be the first!