احمد اور ضعیف دادا
احمد کے دادا بہت بوڑھے تھے۔ وہ لاٹھی کے سہارے چلتے تھے۔ ایک دن دادا کو بازار جانا تھا لیکن ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔
احمد اس وقت اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے جانے والا تھا۔ ماں نے کہا: "بیٹا، دادا کو بازار چھوڑ آؤ گے؟"
احمد کے دوست انتظار کر رہے تھے۔ لیکن احمد نے فوراً کہا: "جی ماں، میں دادا کو لے جاتا ہوں۔"
احمد نے دادا کا ہاتھ تھاما اور آہستہ آہستہ ان کے ساتھ چلا۔ دادا نے بازار میں کام کرائے اور واپس آتے وقت احمد کو دعا دی۔
رات کو دادا نے سب کے سامنے کہا: "احمد نے آج مجھے بہت خوش کیا۔ بڑوں کی خدمت کرنے والے بچے اللہ کے پیارے ہوتے ہیں۔"
احمد نے اس دن سے عہد کیا کہ وہ ہمیشہ بزرگوں کا ادب کرے گا۔
سبق: بزرگوں کا ادب اور خدمت کریں۔
یہ کہانی احمد نامی ایک فرمانبردار بچے کی ہے جس نے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے اپنے بوڑھے دادا کو بازار لے جانے کو ترجیح دی۔ احمد نے محبت اور احترام کے ساتھ دادا کی مدد کی جس سے دادا بہت خوش ہوئے اور اسے دعائیں دیں۔ اس واقعے نے احمد کو بزرگوں کے ادب اور خدمت کی اہمیت کا احساس دلایا۔ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ بزرگوں کا احترام اور ان کی خدمت کرنا ایک بہترین اخلاقی عمل ہے اور ایسے بچے اللہ تعالیٰ کو بھی پسند ہوتے ہیں۔
✍️ मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी — संक्षिप्त परिचय
### मुंतज़िम आसी — एक तफ़सीली अदबी तआरुफ़
मुंतज़िम आसी उर्दू अदब की दुनिया में एक ऐसे शख़्स के तौर पर सामने आते हैं जिनकी अदबी ज़िंदगी में शायरी, रूहानियत, मुतालआ, इल्म-ए-अरूज़ और अदबी ख़िदमत एक-दूसरे से जुड़ी हुई नज़र आती हैं। उनकी शख़्सियत का सबसे अहम पहलू यह है कि उन्होंने शायरी को महज़ शौक़ नहीं बल्कि एक लगातार जारी रहने वाले जुनून और ज़िम्मेदारी के तौर पर अपनाया।
उनका अदबी सफ़र किसी एक दिन …




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!