اُمم کی امتحان کی تیاری
امتحان سے دو دن پہلے اُمم کی سہیلی نادیہ نے کہا: "اُمم، کل میرے گھر آؤ، مل کر تیاری کریں گے۔"
اُمم بہت خوش ہوئی اور اگلے دن نادیہ کے گھر گئی۔ لیکن وہاں سہیلیاں پڑھنے کی بجائے گانے سن رہی تھیں اور باتیں کر رہی تھیں۔
اُمم نے کہا: "ہمیں پڑھنا چاہیے، امتحان کل ہے۔"
سہیلیاں بولیں: "ایک دن کی چھٹی سے کیا فرق پڑتا ہے؟"
اُمم نے محبت سے کہا: "میں گھر جا کر پڑھتی ہوں، کل امتحان کے بعد خوب کھیلیں گے۔"
اُمم گھر آئی اور رات دیر تک پڑھتی رہی۔
امتحان میں اُمم نے بہت اچھے نمبر لیے۔ نادیہ نے کہا: "اُمم، تم صحیح تھیں، ہمیں بھی تمہاری بات ماننی چاہیے تھی۔"
سبق: ذمہ داریوں سے کبھی منہ نہ موڑو۔
یہ کہانی اُمم نامی ایک سمجھدار اور ذمہ دار بچی کی ہے۔ امتحان سے ایک دن پہلے وہ اپنی سہیلی نادیہ کے گھر پڑھنے گئی، لیکن وہاں سب سہیلیاں پڑھائی کے بجائے تفریح میں مصروف تھیں۔ اُمم نے انہیں پڑھنے کا مشورہ دیا، مگر جب کسی نے اس کی بات نہ مانی تو وہ گھر واپس آ گئی اور دل لگا کر امتحان کی تیاری کرتی رہی۔ اس کی محنت رنگ لائی اور امتحان میں اسے بہت اچھے نمبر ملے۔ نادیہ نے بھی تسلیم کیا کہ اُمم کا فیصلہ درست تھا۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا اور وقت کی قدر کرنا کامیابی کی کنجی
✍️ Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari — Short Introduction
## Shakhsiyat, Adabi Safar aur Shayari Khidmaat
Muntazim Aasi ka shumaar un ahl-e-qalam mein hota hai jinhon ne sher-o-adab ki duniya mein kisi baqaida adabi idare ya rasmi tarbiyati silsile ke sahare ke bajaye apne shauq, mutalea, musalsal mashq, asatiza ki rehnumai aur ghair mamooli junoon-e-sukhan ke zariye apna raasta banaya. Unka adabi safar mahaz shayari tak mehdood nahin balki yeh ek aise …




No comments yet — be the first!