اُمم کی سہیلی
اُمم کے سکول میں ایک نئی لڑکی آئی جس کا نام ریحانہ تھا۔ ریحانہ دوسرے شہر سے آئی تھی اور اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ بریک میں اکیلی بیٹھی رہتی تھی۔
اُمم نے دیکھا کہ ریحانہ اداس ہے۔ اُمم کی سہیلیاں کہنے لگیں: "اس سے دوستی مت کرو، ہم نہیں جانتے یہ کیسی ہے۔"
لیکن اُمم نے سوچا کہ اگر وہ خود نئی جگہ جاتی تو کیسا محسوس کرتی؟
اُمم ریحانہ کے پاس گئی اور مسکرا کر کہا: "میرا نام اُمم ہے، کیا تم میرے ساتھ کھانا کھاؤ گی؟"
ریحانہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ دونوں نے ساتھ کھانا کھایا اور باتیں کیں۔
جلد ہی ریحانہ اُمم کی سب سے اچھی سہیلی بن گئی۔ ریحانہ نے کہا: "تم نہ ہوتیں تو میں بہت اکیلی ہوتی۔ شکریہ اُمم۔"
سبق: دوسروں کے دکھ کو سمجھو اور مدد کا ہاتھ بڑھاؤ۔
یہ کہانی اُمم نامی ایک مہربان اور ہمدرد بچی کی ہے۔ اس کے سکول میں ریحانہ نامی ایک نئی لڑکی آئی جو دوسرے شہر سے آئی تھی اور کسی کو نہیں جانتی تھی۔ وہ تنہائی محسوس کرتی تھی اور بریک میں اکیلی بیٹھی رہتی تھی۔ اگرچہ اُمم کی سہیلیوں نے اسے ریحانہ سے دوستی نہ کرنے کا مشورہ دیا، لیکن اُمم نے اس کے احساسات کو سمجھا اور اس سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ اُمم نے ریحانہ کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی اور اس کا حوصلہ بڑھایا۔ جلد ہی دونوں اچھی سہیلیاں بن گئیں۔ ریحانہ نے اُمم کا شکریہ ادا کیا کیونکہ اس کی محبت اور ہ
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!